اسرائیلی انٹیلی جنس نے مبینہ طور پر کئی سال قبل تہران کے ٹریفک کیمروں کے نظام تک رسائی حاصل کر لی تھی، جسے ایک طویل خفیہ نگرانی مہم کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان ہیک شدہ کیمروں کے ذریعے حساس مقامات کی مسلسل نگرانی کی جاتی رہی جبکہ حاصل شدہ ویڈیوز خفیہ انداز میں تل ابیب اور جنوبی اسرائیل میں موجود سرورز تک منتقل کی جاتی تھیں۔ ان کیمروں کی مدد سے سکیورٹی اہلکاروں کی روزمرہ سرگرمیوں، گاڑیوں کی نقل و حرکت اور اہم کمپاؤنڈز کے اندرونی معمولات پر نظر رکھی گئی۔اسرائیلی انٹیلی جنس نے جدید الگورتھمز اور سوشل نیٹ ورک تجزیے کے ذریعے سکیورٹی گارڈز اور متعلقہ افراد کی رہائش، ڈیوٹی شیڈول، سفر کے راستوں اور ذمہ داریوں کا مکمل طرزِ زندگی ڈیٹا تیار کیا تاکہ مخصوص اوقات میں ان کی موجودگی کا اندازہ لگایا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق کارروائی صرف کیمروں تک محدود نہیں رہی بلکہ موبائل فون ٹاورز میں مداخلت جیسے اقدامات بھی کیے گئے تاکہ حفاظتی عملے کو بروقت وارننگ نہ مل سکے۔ایک اسرائیلی انٹیلی جنس عہدیدار کے مطابق آپریٹرز کو تہران کے بارے میں اتنی ہی معلومات حاصل تھیں جتنی یروشلم کے بارے میں۔ اس نیٹ ورک میں اسرائیل کی سگنلز انٹیلی جنس یونٹ 8200، موساد کے انسانی ذرائع اور فوجی انٹیلی جنس رپورٹس شامل تھیں جنہوں نے اربوں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کیا۔ماہرین کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس حکمت عملی میں ٹارگٹنگ انٹیلی جنس کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور سیاسی منظوری ملنے کے بعد مکمل معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی جاتی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ گزشتہ سال ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ تنازع کے دوران سائبر حملوں، ڈرونز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے ایران کے فضائی دفاعی نظام کو کمزور کیا گیا اور متعدد سائنس دانوں اور فوجی افسران کو نشانہ بنایا گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی اعلیٰ سطحی رہنما کو نشانہ بنانا صرف تکنیکی کامیابی نہیں بلکہ ایک اہم سیاسی فیصلہ بھی ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جب یہ اندازہ لگایا گیا کہ ایرانی قیادت ایک مخصوص مقام پر موجود ہوگی تو اسے موزوں موقع سمجھا گیا۔رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ اس نوعیت کی خفیہ کارروائیوں کی مکمل تفصیلات ممکنہ طور پر کبھی منظرِ عام پر نہیں آئیں گی کیونکہ ان میں استعمال ہونے والے ذرائع اور طریقہ کار کو راز میں رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
