اپوزیشن کی تنقید اور سوشل میڈیا کی افواہوں کےبعد غزہ پیس بورڈ کےحوالےسے مدلل جواب سامنے آگیا ،،حکومتی ذرائع کےمطابق غزہ پیس بورڈ میں پاکستان کی شرکت کامطلب فوج بھیجنا نہیں، یہ ایک سفارتی فورم ہے،پاکستان کا واضح موقف ہے کہ غزہ میں کوئی پاکستانی فوج نہیں جائے گی،غزہ پیس بورڈ اقوام متحدہ کا متبادل نہیں، بلکہ ایک اضافی سفارتی چینل ہےامداد، بحالی اور فلسطینیوں کی حفاظت ،بورڈ میں شرکت کیلئے پاکستان کی تین غیر متزلزل شرائط ہیں ،،فلسطین کی حمایت پاکستان کی مستقل ریاستی پالیسی ہے، کوئی عارضی رجحان نہیں،اسرائیل اقوام متحدہ میں بھی موجود ہے کیا پاکستان وہاں سے بھی نکل جائے؟اسرائیل کی موجودگی سے کمرہ خالی نہیں کیا جاتا، بلکہ وہاں بیٹھ کر آواز اٹھائی جاتی ہےغیر حاضری کا مطلب دوسروں کو کہانی لکھنے کا موقع دینا ہے—پاکستان موجود رہے گااقوام متحدہ کی منظوری سے پیس بورڈ کو قانونی جواز حاصل ہےبورڈکا حصہ بننے کیلئے ایک ارب ڈالر کا تعاون رضاکارانہ ہے، فوجی یا سیاسی پابندی نہیں پاکستان ایشیا، مشرق وسطیٰ، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے وسیع اتحاد کا حصہ ہے،،
