ایران نے آبنائے ہرمزبندکرکے دنیاکی معاشی شہ رگ پرہاتھ رکھ دیا، تیل کی ترسیل بند،،تجارتی جہازوں کی آمدورفت رک گئی ،،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی انشورنس لاگت 12 گنا بڑھ گئی ۔۔اسرائیل کو ہرہفتے 3ارب ڈالرکانقصان بھگتنا پڑرہاہےآبنائے ہرمز۔۔۔دنیا کی معاشی شہ رگ۔۔ایران کےشکنجے میں آگئی۔۔تیل بردارجہاز۔۔۔تجارتی سامان سے لدے بحری بیڑے سب رک گئے۔۔ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے اب تک 7آئل ٹینکروں کو آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں نشانہ بنایا جا چکا ہےبرطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق جنگ سے پہلے انشورنس پریمیم جہاز کی قیمت کا تقریباً 0 اعشاریہ 25 فیصد تھا جو اب بڑھ کر تقریباً 3 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔جہاز مالکان کو انشورنس کے لیے لاکھوں ڈالر کی قیمتیں بتائی جا رہی ہیں امریکی صدر ٹرمپ نے خلیج سے تجارت کے لیے انشورنس اور ضمانت دینے کا اعلان کیا ہے تاہم یہ سہولت امریکی ترقیاتی مالیاتی کارپوریشن کے ذریعے دینے کی بات کی گئی ہے۔رپورٹ کےمطابق تیل کی قیمت جنگ شروع ہونے کے بعد تقریباً 26 فیصد زیادہ ہے اور برینٹ خام تیل تقریباً 81 ڈالر فی بیرل کے قریب ہےدوسری جانب ایران پر امریکا و اسرائیل کے حملے اور جنگ کے اثرات اسرائیلی معیشت پر بھی پڑنےلگے ہیں۔ اسرائیلی وزارت خزانہ کے مطابق ایران کےخلاف جنگ میں اسرائیل کی معیشت کو پہنچنے والا نقصان ایک ہفتے میں تقریباً 3 ارب ڈالر) سے زیادہ ہو سکتا ہے۔ اسرائیلی وزارت خزانہ کا کہنا ہےکہ کم پابندیوں والی صورتحال میں بھی اسرائیلی معیشت کو 4.3ارب شیکل نقصان فی ہفتہ ہوسکتاہے۔دوسری جانب جنگ کے باعث اسرائیل میں اسکول بند ہیں، اجتماعات پر پابندی ہے جب کہ افرادی قوت کی سرگرمیاں ممنوع ہیں اور زیادہ تر ملازمین گھر سے کام کر رہے ہیں۔
