برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی نے ایک بڑے اسمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پانچ افراد کو غیر قانونی تارکینِ وطن کو اسمگل کرنےکےجرم میں گرفتار کرلیا،،ملزم ایک لاری کےاندرتارکین وطن کوچھپا کر فرانس سمگل کرنے کی کوشش کررہے تھے ،تارکین وطن بنگلہ دیشی اوران کی تعداد 23 کےقریب تھی ،،برطانوی میڈیا کےمطابق یہ گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب حکام نے ایک لارِی کو روکا جو ڈوور فیری پورٹ کی طرف جا رہی تھی یہ کارروائی این سی اے کی ایک خفیہ آپریشن کا حصہ تھی ۔ حکام نے بتایا ہے کہ ان 23 افراد میں سے 22 قانونی طور پر برطانیہ میں مقیم تھے اور انہیں پولیس نے چھوڑ دیا، جبکہ ایک کو امیگریشن جرائم کی وجہ سے گرفتار کیا گیا اسمگلرگروپ کے لیڈر کی عمر 43 سال بتائی گئی ہے جسے نیو کراس، لندن سے گرفتار کیاگیا تحقیق کے دوران 30 ہزار پاؤنڈ نقد رقم بھی ضبط کی گئی۔ اسی گروپ کے تین دیگر افراد، جن کی عمر 43 سے 55 سال کے درمیان ہے، لندن سے وائٹسٹبل، کینٹ تک ٹیکسی میں ڈرائیونگ کا حصہ بنے تھے، جبکہ 32 سالہ رومانیہ کے شہری، لارِی ڈرائیور، کو بھی گرفتار کیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گروپ زیادہ تر پاکستانی اور بنگلہ دیشی شہریوں کو لارِیز کے ذریعے برطانیہ سے فرانس تک منتقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ سرحدی نگرانی اور فرانسیسی داخلے کی پابندیوں سے بچا جا سکے۔ این سی اے کے ایک کمانڈر نے خبردار کیا ہے کہ ایسے منظم گروہ نہ صرف ان افراد کی زندگی کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ برطانیہ اور فرانس دونوں کی سرحدی سکیورٹی کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں، اور ایسے جرائم کے خلاف کارروائیاں این سی اے کی اولین ترجیح ہیں
