بنگلہ دیش عام انتخابات کےتاریخ کےنئے موڑپر،،بھارت نوازجماعتیں بنگالی سیاسی منظرنامےسے غائب،،پاکستان کےحوالےسے نرم گوشہ رکھنےوالی سیاسی جماعتیں اقتدارکےایوانوں میں پہنچ گئیں ،،بی این پی ہویاجماعت اسلامی ،،دونوں طرح سے جیت پاکستان کی ہوئی ،،،جبکہ بنگلہ دیش میں 35 برس بعد مرد وزیراعظم کی راہ ہموارہوئی ،،، مرحوم سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے اور بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے 15 فروری کو حکومت بنانے کا اعلان کر دیا ،کہا کہ بی این پی تمام اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی، سیاسی کارکنوں کو جشن منانے سے گریز کا پیغام دیا،،کہا جماعت اسلامی نے اچھی حریف پارٹی ہونے کا ثبوت دیا طارق رحمان نے کہا کہ وہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت تشکیل دیں گے۔جبکہ کارکنوں کو جشن منانے سے گریز کا پیغام دیا
طارق رحمان نے 1990 میں عملی سیاست کا آغاز کیا،،2001 سے 2007 تک اہم عہدوں پر فائز رہے،،حسینہ واجد دور میں طارق رحمان کو منی لانڈرنگ اور قاتلانہ حملے کی مبینہ سازش کے الزام میں 18 ماہ قید بھی کاٹنا پڑی،،، حسینہ واجد کی برطرفی کے بعد فیصلے کالعدم قرار پائے،2008 میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کی،،جلا وطنی کے دوران لندن میں مقیم رہے،،17 سال جلا وطن رہنےکے بعد گذشتہ برس دسمبر میں والدہ کے انتقال کے بعد پارٹی کی قیادت سنبھالی اور وطن واپسی پر عوام نے گرمجوشی سے استقبال کیا
دوسری جانب
دوسری جانب بنگلادیشی سینئر سیکریٹری الیکشن کمیشن اختر احمد کے مطابق بی این پی اتحاد نے 212 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ جماعتِ اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتی اتحاد 77 نشستوں پر کامیاب ہوا، اسلامی اندولن بنگلادیش نے ایک نشست اور آزاد امیدوار 7 نشستوں پر کامیاب رہے۔بنگلادیشی الیکشن کمیشن نے 297 نشستوں کے باضابطہ نتائج جاری کر دیے، دیگر 2 نشستوں کے نتائج کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 12 فروری کو ہونے والے ریفرنڈم میں 60.26 فیصد ووٹرز نے ریفرنڈم کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔جماعتِ اسلامی نے تاحال شکست تسلیم نہیں کی اور کہا ہے کہ وہ ووٹوں کی گنتی سے مطمئن نہیں ہے۔ جماعت کا کہنا ہے کہ وہ انتخابی نتائج کے عمل کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔، بنگلادیش میں قومی انتخابات کے لیے 299 نشستوں اور ریفرنڈم پر ووٹنگ ہوئی، ریٹرننگ افسران کو 11 لاکھ 43 ہزار 845 پوسٹل ووٹ موصول ہوئے، پوسٹل ووٹز ایپ کے ذریعے لیے گئے۔
