0

بنگلہ دیش میں عام انتخابات اور ریفرنڈم کے لیے پولنگ ختم ہوتےہی ووٹوں کی  گنتی  شروع,ٹرن آؤٹ 48 فیصد

بنگلہ دیش میں عام انتخابات اور ریفرنڈم کے لیے پولنگ ختم ہوتےہی ووٹوں کی  گنتی  شروع کردی گئی ،،مقامی میڈیاکےمطابق ٹرن آؤٹ 48 فیصد رہا ۔۔الیکشن کیلئے 12 کروڑ سے زائد افراد بطور ووٹرز رجسٹرڈتھے جنہوں نے ملک  بھر میں قائم 42 ہزار سے زائد پولنگ مراکز پرجاکراپناحق رائے دہی استعمال کیا،،شہری لمبی لمبی قطاروں میں لگ کر ووٹ ڈالتے رہے،، نصف سے زیادہ حساس قرار پائےجن پر فوج کی مددسے سخت سکیورٹی انتظامات کئے گئے، کئی مقامات پرلڑائی جھگڑے اور تصادم کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے، گوپال گنج میں دیسی بم پھٹنےسے دوسکیورٹی اہلکار اورایک بچی زخمی ہوئی ، منشی گنج، مہیرپور،ڈھاکا اور راج شاہی کےعلاقوں میں بھی ووٹرزکےدرمیان جھڑپیں ہوئیں۔۔۔کئی کارکنوں کےزخمی ہونےکی اطلاعات ہیں ۔۔۔تازہ ترین اطلاعات کےمطابق ، جماعت اسلامی اور بی این پی کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس نے ووٹ ڈالنے کے بعد اسے نئے بنگلہ دیش کی بنیاد قرار دیا، جماعت امیر شفیق الرحمان اور بی این پی چیئرمین طارق رحمان نے اپنے اپنے حلقوں میں ووٹ کاسٹ کیا۔انتخابات کے ساتھ ہونےوالےریفرنڈم میں، آئینی اصلاحات پر عوامی رائے لی گئی۔ نئی حکومت نئی اصلاحات کےساتھ نئے دورکاآغازکرےگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں