0

جن ملکوں کا تیل آبنائے ہرمز سے جاتا ہے انہیں کہتے ہیں  آبنائے ہرمزکھلوانےکیلئے وہ آگئے آئیں ، امریکی صدرٹرمپ کے نیٹوممالک سے گلے شکوے

امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کاکہناہے،،فوجی کارروائی کرکے ایران کے 90 فیصد میزائل اور 85 فیصد ڈرون کی صلاحیت ختم کر دی ، آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیاں بھی  ڈبو دی ہیں ، چین، جاپان اور دیگر ملکوں کے تیل کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے جاتا ہے ، جن ملکوں کا تیل آبنائے ہرمز سے جاتا ہے انہیں کہتے ہیں  آبنائے ہرمزکھلوانےکیلئے وہ آگئے آئیں ، نیٹوممالک سے ساتھ نہ دینے کےگلےشکوےبھی کرتے رہےوائٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگوکرتےہوئےصدرٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل ایران پرکبھی جوہری حملہ نہیں کرےگا اورنہ ہی اسے کرنا چاہئے،سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کےحوالےسے ایک سوال پر صدرٹرمپ کاکہناتھا،،وہ حملےمیں بری طرح زخمی ہیں ایک ٹانگ سے محروم ہوچکےہیں کوئی کہہ رہاہے صحت مندہیں توکوئی کہہ رہاہے وہ چل بسے ہیں  اب ہمیں معلوم نہیں ان کالیڈرکون ہے ، ہم کس سے بات کریں صدرٹرمپ نےنیٹوممالک سےشکوہ کیاکہ 40سال سے امریکا ان کاتحفظ کررہاہے اوراب مشکل کی اس گھڑی میں وہ  ساتھ شامل نہیں ہورہےٹرمپ نےمزید کہا،،صدرپوٹن  کویورپ سے نہیں  نیٹو اور امریکا سے خوف ہے آبنائے ہرمزکیلئے شائدفرانسیسی صدرہماری مددکرے، تاہم ہمیں کسی کی مددکی ضرورت نہیں،میں نےتو اتحادیوں کا ردعمل چیک کرنےکیلئے بیان دیاتھا، بحری بیڑےابراہم لنکن پرآگ لگی توبتایا گیا کچھ بھی نہیں ہوا دوسری جانب صدرٹرمپ کی پریس کانفرنس کےجواب میں جرمن چانسلر مرزنے کہاکہ  نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے نہ کہ مداخلتی اتحاد۔ اور اس لیے یہاں نیٹو کو بلایا  جانانہیں بنتا،،ہم نے  پہلے دن سے ہی خطرات کی نشاندہی کی تھی ،ایران کےمسئل کاکوئی فوجی حل نہیں ہوگا بلکہ صرف سیاسی حل ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں