دبئی کی چمک دمک ماند پڑ گئی،امرا ء دبئی سے فرار کے راستے تلاش کرنے لگے،،ایرانی میزائل آسمان میں تیر رہے،دبئی کی محفوظ حیثیت اب خطرے میں امراء بھاری رقوم خرچ کر کے نکلنے کے جتن کرنے لگے،ہوائی جہازوں کی کمی ،،ایرانی ڈرونز کی بھرمار،،،دنیا بھرسے آئے سیاح متحدہ عرب امارات سے نکلنے کیلئے بےتاب ۔دبئی جو شہر کل تک دولت اور عیش کا استعارہ تھا۔۔۔
، آج وہاں خوف کے سائے اورجنگ کے بادل چھاچکےہیں۔۔
۔خطے میں بڑھتی جنگی کشیدگی نے دبئی کے امرا کو بھی پریشان کر دیا ہے۔ جواس کےکم ٹیکس، محفوظ ماحول، شاہانہ طرززندگی اور دوستانہ کاروبار ی ماحول کی وجہ یہاں آکربسنےکےخواب دیکھاکرتے تھے۔۔ لگژری زندگی کے لیے مشہور اس شہر سے امیر افراد اب ہر ممکن راستہ اختیار کر کے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔کچھ خاندان اپنی جان بچانے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کر کے نجی پروازیں اور محفوظ راستے تلاش کر رہے ہیں۔ پام جمیرا کے قریب ایک لگژری ہوٹل پر میزائل کے ملبے کے گرنے کے بعد خوف مزید بڑھ گیا۔ترکی سے تعلق رکھنے والی ایورم نامی خاتون اپنے خاندان کے ساتھ دو لاکھ ڈالر خرچ کر کے عمان کے راستے جنیوا روانہ ہو گئی۔ انہیں مسقط پہنچنے کے لیے صحرا میں چھ گھنٹے سفر کرنا پڑا۔دوسری جانب فضائی حدود کی جزوی بندش اور طیاروں کی کمی کے باعث پروازوں کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جبکہ سرحدوں پر بھی گھنٹوں انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔”جو دبئی کبھی محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا،اب دنیاکاغیرمحفوظ ترین شہربن کررہ گیاہے اب اسی شہر کے امرا جنگ کے سائے سے دور نکلنے کی راہیں تلاش کرنے لگے۔
