غزہ کی تعمیرنوکیلئےصدرٹرمپ کےتجویزکردہ غزہ پیس بورڈ میں اب تک 25ممالک شامل ہوچکےہیں،،جن میں سے 12مسلمان جبکہ 13دنیا کےدیگرممالک ہیں ،، چین، روس، فرانس، جرمنی جیسے دنیا کےطاقتورممالک اس بورڈ کاحصہ بننے سے صاف انکارکرچکے ہیں جبکہ برطانیہ، اٹلی، جاپان اور بھارت نے ٹرمپ کی دعوت ملنے کےباوجود ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔۔۔غزہ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے 20 نکاتی امن پلان کا مرکزغزہ بورڈ آف پیس ہے جس کیلئے صدرٹرمپ دنیا کے 60سےز ائدممالک کو شمولیت کی دعوت دے چکےہیں ،،صدرٹرمپ کی دعوت پر ابھی تک صرف 25 ممالک نے اس پر دستخط کئےہیں ، جن میں سے 12 مسلمان ممالک اور 13 غیر مسلمان شامل ہیں۔دستخط کرنے والے مسلمان ممالک میں سعودی عرب، قطر، ترکی، انڈونیشیا، اردن، متحدہ عرب امارات، مصر، پاکستان، بحرین، مراکش، آذربائیجان اور قازقستان شامل ہیں۔ یہ ممالک بورڈ میں شمولیت کو غزہ میں امن اور بحالی کے لیے اہم سمجھتے ہیں، خاص طور پر عرب لیگ اور او آئی سی کی حمایت سے مسلم ممالک نے بورڈ میں فوری شمولیت کافیصلہ کیاہے،،دوسری جانب غیر مسلمان ممالک میں اسرائیل، ارجنٹائن، آرمینیا، بیلاروس، ہنگری، کوسووو، ویت نام، ازبکستان، پیراگوئے، منگولیا اور بلغاریہ شامل ہیں۔ یہ ممالک امریکہ کی قیادت میں آرکٹک اور علاقائی سلامتی کے تناظر میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔دنیا کی آٹھ بڑی طاقتیں جن میں چین، روس، فرانس، جرمنی، برطانیہ، اٹلی، جاپان اور بھارت شامل ہیں انہوں نے ابھی تک بورڈمیں شمولیت کی حامی نہیں بھری ،،کچھ ممالک کو بورڈ کےاختیارات اور وسیع دائرہ کارپر اختلاف ہے توکچھ اس کے لامحدود عزائم پر تشویش کا شکارہیں ،کہاجارہاہے غزہ پیس بورڈ اپنے لامحدوداختیارات کےباعث اقوام متحدہ کی جگہ لے سکتا ہے اور تنازعات کے حل میں اسے کمزور کر سکتا ہے۔ فرانس، ناروے، سویڈن اور ڈنمارک نے توصاف کہہ دیاکہ یہ بین الاقوامی قانون اور خودمختاری کی خلاف ورزی ہے۔ چین اور روس کےمطابق یہ امریکہ کی بالادستی بڑھانے کی کوشش لگتی ہے۔ جبکہ جرمنی اور اٹلی نے پارلیمانی منظوری سے جوڑدیاہے ،،ہ بھارت اور جاپان علاقائی توازن کی وجہ سے محتاط ہیں۔
