لندن کے معروف بچوں کے ہسپتال، گریٹ اورمینڈ اسٹریٹ ہسپتال میں آرتھوپیڈک سرجن یاسرجبار کےمشکوک طریقہ علاج کےحوالےسے ہوشربا رپورٹ ،جس کےمطابق اسپتال کےسابق آرتھوپیڈک سرجن یاسر جبار کی زیرِ نگرانی 94 بچوں کو نقصان پہنچایاگیا یاسر جبار نے پانچ سال کے دوران سینکڑوں بچوں کا علاج کیا، اور کل 789 کیسز کا کلینیکل ریویو کیا گیا۔ اس جائزے کے دوران معلوم ہوا کہ 98 مریضوں، یعنی تقریباً 12.4 فیصد بچوں کو کسی نہ کسی حد تک نقصان پہنچا، جن میں سے 94 کے معاملات براہِ راست یاسر جبار کے فراہم کردہ علاج سے جڑے ہوئے تھے۔سرجن یاسرنے 789 بچوں کا علاج کیا، جن میں سرجری، جوڑوں کی اصلاح، اور دیگر آرتھوپیڈک طریقہ کار شامل تھے۔ان میں 98 بچوں کو کسی نہ کسی حد تک نقصان پہنچا، اور 94 کے معاملات براہِ راست جبار کے علاج سے جڑے،کہیں غیر مناسب سرجری یا غلط تکنیک استعمال کی گئی توکہیں غیر ضروری یا خطرناک طریقہ کار کا اختیارکیاگیا،،سرجری کے بعد حفاظتی نگہداشت یا نگرانی میں کمی بھی دیکھی گئی جبکہ بعض کیسز میں طبی غفلت یا غلط تشخیص کی گئی ،،، بچوں کو نقصان صرف حادثاتی نہیں بلکہ سرجری یا علاج کے طریقہ کار میں ممکنہ غفلت یا مہارت کی کمی کی وجہ سے پہنچا۔گریٹ اورمینڈ اسٹریٹ ہسپتال کے مطابق، یہ ریویو اس وقت شروع کیا گیا جب ان کی کلینیکل پریکٹس کے بارے میں تشویشیں سامنے آئیں ان کےزیرعلاج بچوں کی ہلاکت کےپےدرپے واقعات سامنے آئے توانتظامیہ کےکان کھڑے ہوگئے اور اس کےبعد ڈاکٹر یاسرجبارکےخلاف خفیہ طورپر تحقیقات شروع کردی گئیں ،،اسپتال کی تحقیقاتی ٹیم کےمطابق یہ رپورٹ نہ صرف پچھلے نقصان کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ بچوں کے علاج میں معیار کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات بھی تجویز کرتی ہے
