ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے صاف اور واضح الفاظ میں کہاہے ہم امریکا کوجنگ بندی کے لئے نہیں کہہ رہے ہیں، اور ہمیں کوئی وجہ نظر نہیں آتی ہے کہ ہمیں امریکہ کے ساتھ بات چیت کیوں کرنی چاہئے۔ہم نے انہیں کبھی کوئی پیغام نہیں بھیجا ہے۔ٹرمپ نے گزشتہ روزدعویٰ کیاتھاکہ ایران بات چیت کرناچاہتاہے لیکن اب وقت گزرگیاہے،،لیکن ایران کےدوٹوک اعلان کےبعد یہ سوال اٹھایا جارہاہےکہ وہ کون ہے جو ٹرمپ سے بات چیت کرنا چاہتاہے،،امریکی میڈیا کو انٹرویومیں عباس عراقچی نے کہا جب بھی ہم نے مذاکرات کئے امریکا نے ہمیشہ درمیان میں ہم پرحملہ کردیا،،ہمیں دھوکادیا،،ہم اب امریکا سے کسی قسم کامذاکرات نہیں کرنا چاہتے نہ درخواست کی نہ پیغام بھیجااین بی سی کےاینکرنے سوال پوچھا کیا روس اور چین مددکررہےہیں ،انہوں نے جواب ،دیا ،وہ ہمیشہ سے ایران کی مددکرتے رہےہیں ، اب بھی کررہئےہیں کیامددکررہےہیں وہ اس کی تفصیل نہیں بتائیں گے لیکن چین او روس نے ہمیشہ ایران کی مددکی ہے،،امریکی ٹی وی کے اینکر نے پوچھاکہ کیا آپ اپنے ملک پر امریکی حملے سے خوفزدہ ہیں؟ایران کے وزیر خارجہ عراقچی: “نہیں، ہم ان کا انتظار کر رہے ہیں۔،،اینکرکویقین نہ آیاتواس نے پھرپوچھا،،کیا آپ امریکی فوج کے زمینی دستوں پر حملہ کرنے کا انتظار کر رہے ہیں،،عراقچی نے جواب جی ہاں ۔۔۔
