وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کی وزیراعظم شہبازشریف سےملاقات کی تفصیلات سامنے آگئی ،،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ان کی بہنوں کی ملاقات سے متعلق کسی قسم کی بات نہیں ہوئی۔
وزیراعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کے 2600 ارب روپے رکے ہوئے ہیں، وزیراعظم نے قبائلی اضلاع کے رکے ہوئے 26 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ، کرم اور باجوڑ کے جو لوگ قربانی دے رہے ہیں ان کے لیے 4 ارب روپےکی رقم کچھ بھی نہیں ہے، اگر آپ 4 ارب روپے کو ان علاقوں کے عوام کی قربانی سے جوڑیں گے تو پھر آپ عوام کی قربانیوں سے انحراف کریں گے۔ سہیل آفریدی کا کہنا تھا وزیراعظم سے ملاقات میں بانی پی ٹی آئی یا بہنوں سے ملاقات کے حوالے سے کسی قسم کی بات نہیں ہوئی، ملاقات میں کسی سیاسی معاملے پر بات نہیں ہوئی۔
دہشتگردی کے واقعات سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ کے پی نے کہا کہ دہشتگرد کا نہ کوئی صوبہ اور نہ ہی ملک ہوتا ہے، عید کے بعد وزیراعظم سے پھر ملاقات ہوگی اور دہشتگردی پر بات ہو گی، ہم پہلے سے کھل کر بات کر رہے ہیں اور اپنا مؤقف دے رہے ہیں
دوسری جانب انسداد دہشتگردی عدالت نے 26 نومبر احتجاج کیس میں علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت میں عمران خان کی بہن علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت ہوئی جس دوران عدالت نے علیمہ خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کردی اور ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔عدالت نے علیمہ خان کو گرفتار کرکے کل تک پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمہ کی عدالت میں پیشی تک ان کے بینک اکاؤنٹس اور شناختی کارڈ بلاک رہیں گے۔اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ عدالت کو ڈکٹیٹ نہیں کر سکتیں، شروع دن سے ان کا رویہ غیر ذمہ دارانہ رہا ہے۔
