امریکی ریاست ٹیکساس کےشہر ہیوسٹن کی ضلعی عدالت نے پاکستانی نژاد کاروباری شخصیت تنویراحمد کےاپنے سیاسی وکاروباری حریف طاہر جاوید کےخلاف مقدمات کوبےبنیاد قراردیتےہوئے ان پر 10ہزار ڈالرجرمانہ عائد کردیا
تنویراحمد نے اپنے کاروباری اور سیاسی حریف طاہر جاوید اور چند آن لائن میڈیا اداروں کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ طاہر جاوید نے امریکا اور پاکستان کی اہم سیاسی تقریبات میں اُن کا کریڈٹ خود لے لیا، انہیں پس منظر میں دھکیل دیا، بدنام کیا اور اُن کی ساکھ، کردار اور دیانت کو نقصان پہنچایا۔ مقدمے میں ہتکِ عزت، ذہنی اذیت پہنچانے، سازش اور کاروباری معاملات میں مداخلت کے الزامات شامل تھے۔جواب میں طاہر جاوید نے ٹیکساس سٹیزنز پارٹیسپیشن ایکٹ کے تحت مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دائر کی ۔ طاہر جاوید کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست میں قابلِ سماعت قانونی بنیاد موجود نہیں۔ہیرس کاؤنٹی کی 11ویں ضلعی عدالت نے طاہر جاوید کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے ہتکِ عزت، ذہنی اذیت، سازش اور کاروباری مداخلت سے متعلق تمام دعوے مستقل طور پر خارج کر دیے۔ طاہر جاوید نے تنویراحمد کے خلاف جوابی دعوے بھی دائر کر رکھے ہیں
