ناظرین۔۔۔
آہوں، سسکیوں اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مشہد میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تدفین روضۂ حضرت امام رضا علیہ السلام کے احاطے میں کی گئی، جبکہ نمازِ جنازہ ان کے بڑے صاحبزادے آیت اللہ سید مصطفیٰ خامنہ ای نے پڑھائی۔
مشہد کی سڑکوں پر انسانوں کا سمندر امڈ آیا۔ لاکھوں سوگوار اپنے رہنما کو آخری الوداع کہنے کے لیے جمع ہوئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں جاری چھ روزہ آخری رسومات میں مجموعی طور پر تقریباً چار کروڑ تیس لاکھ افراد نے شرکت کی۔
آیت اللہ خامنہ ای کا جسدِ خاکی نجف سے خصوصی طیارے کے ذریعے مشہد لایا گیا، جبکہ ایرانی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے اسے فضائی حصار میں لے کر ایئرپورٹ تک پہنچایا۔ اس سے قبل کربلا میں حضرت امام حسینؓ اور حضرت عباسؓ کے روضوں پر بھی نمازِ جنازہ ادا کی گئی تھی، جہاں لاکھوں عقیدت مند شریک ہوئے۔
ناظرین۔۔۔
ادھر خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات جاری ہیں اور واشنگٹن مسائل کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کا خواہاں ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق پاکستان اور قطر پسِ پردہ ثالثی کی کوششوں میں سرگرم ہیں تاکہ ایران اور امریکا کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان شدید تناؤ دیکھنے میں آیا۔ امریکی فوج نے ایران کے بعض اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا۔
چند روز قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے اور ان کے مطابق اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوتے تو وہ انہیں استعمال کرتا۔ تاہم اب امریکی حکام مذاکرات کی بات کر رہے ہیں، جس سے واشنگٹن کے مؤقف پر نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
ناظرین۔۔۔
اسی دوران امریکا کے اندر صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ تازہ قومی سرویز کے مطابق ان کی منظوری کی شرح تقریباً 39 سے 40 فیصد رہ گئی ہے، جبکہ 57 سے 58 فیصد امریکی ان کی کارکردگی سے غیر مطمئن ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران سے متعلق پالیسی، تجارتی محصولات، مہنگائی، معاشی دباؤ اور داخلی سیاسی کشیدگی نے ان کی حمایت کو متاثر کیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ناظرین۔۔۔
ایک اور اہم پیش رفت میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال، سکیورٹی تعاون اور مستقبل کی حکمت عملی پر تبادلۂ خیال کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خلیجی خطے میں امریکا کی حالیہ سرگرمیوں سے آگاہ کیا، جبکہ نیتن یاہو نے اسرائیل کی سرحدوں کے ساتھ سکیورٹی زون برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
تجزیہ کار اس رابطے کو ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں، اگرچہ دونوں حکومتوں کی جانب سے کسی نئی عسکری کارروائی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
ناظرین۔۔۔
اسی دوران ایک نئی رپورٹ نے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے صدر ٹرمپ کو ایسی خفیہ معلومات سے آگاہ کیا ہے جن کے مطابق ایران مبینہ طور پر ان کے خلاف سازش کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
دوسری جانب سی این این نے بھی ایک علیحدہ رپورٹ میں کہا ہے کہ یہ انٹیلی جنس ایک مخصوص مبینہ قاتلانہ کوشش سے متعلق تھی، تاہم امریکی حکومت اور ایران نے ان رپورٹس پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
ناظرین۔۔۔
ایران میں سوگ کی فضا برقرار ہے، لیکن ساتھ ہی خطے کی سیاسی اور عسکری صورتحال بھی تیزی سے بدل رہی ہے۔ ایک طرف شہید سپریم لیڈر کو آخری الوداع کہا جا چکا ہے، دوسری طرف واشنگٹن، تہران اور تل ابیب کے درمیان بیانات، رابطے اور خفیہ اطلاعات نئی کشیدگی کا اشارہ دے رہی ہیں۔
اب دنیا کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا سفارت کاری دوبارہ راستہ نکال پائے گی یا مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر کسی نئے اور بڑے بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آنے والے دن نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کی سیاست اور سلامتی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
