کراچی: وزیر جامعات سندھ نے جامعہ کراچی میں گزشتہ روز دو طلبہ تنظیموں کے درمیان تصادم کے معاملے پر تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی بنادی۔
ترجمان کے مطابق واقعے کی تحقیقات کے لیے 5 رکنی اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی بنائی گئی ہے جس کے کنوینر وی سی شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری ڈاکٹر حسین مہدی ہوں گے جب کہ ڈاکٹر غضنفر، ڈاکٹرسرفراز میتلو، پروفیسر ڈاکٹر انتخاب الفت اور پروفیسر ڈاکٹر نائمہ سعید شامل ہیں، انکوائری کمیٹی 15 روز کے اندر اپنی رپورٹ سفارشات سمیت محکمہ جامعات و بورڈز سندھ کو پیش کرے گی۔
وزیر جامعات اسماعیل راہو نے کہا کہ ہرپہلو سے شفاف اورغیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے ذمہ دار افراد اور گروہوں کا تعین کیا جائے، انتظامی و سکیورٹی غفلت کا جائزہ لیا جائے، ذمے داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کےلیےسفارشات پیش کی جائیں۔
دوسری جانب جامعہ کراچی میں تصادم کا مقدمہ تھانہ مبینہ ٹاؤن میں درج کرلیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ زخمی طالب علم کی مدعیت میں متعدد افراد کے خلاف درج کیا گیا جس میں ہنگامہ آرائی اور تشدد کی مختلف دفعات شامل کی گئی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد جمع کیے جا رہے ہیں، نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے، جامعہ کراچی میں تصادم کے بعد سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی، واقعے کے محرکات اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے تفتیش جاری ہے۔
