0

کبھی جنگ کی دھمکیاں توکبھی امن کےراگ,امریکی صدرڈونلڈٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جوہری مذاکرات شروع ہونے کی تصدیق کردی

کبھی جنگ کی دھمکیاں توکبھی امن کےراگ ،،،امریکا اور ایران کےدرمیان لمحہ بہ لمحہ بدلتی صورتحال پر دنیا کی نظریں جم گئیں ، امریکا کی طرف سے ایک طرف جنگی بحری بیڑے ، جہازوں کی نقل وحرکت جاری ہے تودوسری جانب پس پردہ مذاکرات بھی چل رہےہیں ،،،امریکی صدرڈونلڈٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جوہری مذاکرات شروع ہونے کی تصدیق کردی ،، ایرانی صدرنے کہاہے کہ  بات چیت صرف جوہری پروگرام تک محدود رہے گی، ،ا مریکی صدر  ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے، مذاکرات کے نتیجے میں ڈیل کی ضرورت ہے ڈیل طے نہ ہوئی تو نتائج بہت بُرے ہوں گے غیرملکی خبرایجنسی کےمطابق ایران اور امریکا میں مذاکرات جمعے کو ترکیہ کے شہر استنبول میں ہوں گے۔ اس حوالےسے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی استنبول میں ملاقات کریں گے۔ایرانی وزیر خارجہ کو امید ہے کہ امریکا سے معاہدہ ہو جائے گا۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے  ملک میں حالیہ فسادات کو امریکا اور اسرائیل کی سازش قرار دیدیا، ساتھ ہی واضح کردیا کہ اس سازش کو ایرانی قوم نے ناکام بنادیا۔آیت اللہ خامنہ ای نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ یہ کہنا محض الزام نہیں کہ یہ منصوبہ بندی بیرون ملک کی گئی بلکہ خود امریکی صدر کے بیانات اس بات کا واضح ثبوت ہیں، جن میں انہوں نے فسادیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ‘ آگے بڑھتے رہو، میں مدد کے لیے آ رہا ہوں’

مذاکرات اور امن کا راگ الاپنے کےساتھ ساتھ  امریکی صدر ٹرمپ دھمکیاں بھی دینے میں مصروف ہیں ،،کہتے ہیں ایران کےساتھ  ڈیل طے نہ ہوئی تو نتائج بہت بُرے ہوں گے،ا مریکی صدر  ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری ہے، مذاکرات کے نتیجے میں ڈیل کی ضرورت ہے۔وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ  وینزویلا بھیجے گئے بیڑے سے بھی بڑا بحری بیڑہ ایران کی جانب  گامزن ہے۔امریکی صدر نے اسٹیو وٹکوف کی جمعے کو ایرانی وزیرخارجہ سےمذاکرات کی بھی تصدیق  کی ،،یوکرین روس جنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ  روس یوکرین جنگ بندی پر کام کر رہے  ہیں، جنگ بندی سے متعلق  اچھی خبر آنے کی توقع ہے ۔

ادھر برطانیہ کی ایران کے 10 افراد پر پابندیاں لگا دیں۔ ایرانی وزیرداخلہ،پولیس کے اعلیٰ حکام ،کاروباری شخصیت اور دو ججز شامل ہیں۔ برطانوی وزارت خارجہ کے مطابق اقدامات حالیہ احتجاجی مظاہروں پر کارروائی کے باعث کیے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں