0

اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے باوجود ایران اور امریکا کے درمیان اسرائیل، آبنائے ہرمز اور جوہری تنصیبات کے معاملات پر کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

ناظرین۔۔۔
اسلام آباد مفاہمتی یاداشت ۔۔اور برگن سٹاک بیٹھک کےباوجود امریکا اورایران کےدرمیان سب اچھانہیں چل رہا،،دونوں طرف سے ایک دوسرے پر سخت لفظی گولہ باری جاری ہے،،بیانات کی تپش ،لہجوں کی گرماہٹ بالکل ویسی ہی ہے جیسے معاہدے سےپہلے تھی بلکہ اب اس میں شدت دیکھی جارہی ہے،،ایران مسلسل مزاحمت کررہاہے اور امریکا مسلسل دھمکیاں دئیے جارہاہے۔۔
دیکھاجائےتووجہ تنازعہ کوئی اورنہیں صرف اور صرف اسرائیل ہےجو لبنا ن پرمسلسل بمباری کرکے ایران کانہ صرف منہ چڑارہاہے بلکہ عالمی برادری خاص طورپر اپنے ضامن امریکا کوپاوں کی ٹھوکر مارکردورہٹارہاہے،اسرائیل کےاس روئیے پر ایران کاموقف سخت ہوتاجارہاہے،،ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے تو آج صاف صاف کہہ دیاہے،،اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ٹرمپ اسرائیل کی کارروائیاں رکوانے کے پابند ہیں، ورنہ ایران اسرائیل کو سبق سکھائے گا،،یہ بات ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیر دفاع کے بیان کے ردِ عمل میں کہی ،،مزید کہا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بالکل واضح ہے جس میں امریکی صدر ٹرمپ اسرائیل کی کارروائیاں رکوانے کے پابند ہیں۔اگر اسرائیل امریکا کی ہدایات کو نظرانداز کرے گا تو ایران انہیں سبق سکھائے گاجبکہ ایرانی عوام اور قیادت کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا
ساتھ ہی ایرانی وزیردفاع نے بھی اسرائیلی وزیردفاع کےبیان کاحساب برابرکرتےہوئےکہا کہ ایران کی فوجی صلاحیتیں“سرخ لکیر” اور ناقابلِ مذاکرات ہیں قائم مقام وزیرِ دفاع ماجد ابن الرضا نے ایک بار پھر واضح کیا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوران ان پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کی جائے گا انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی، میزائل اور ڈرون صلاحیتیں ہماری قومی سلامتی کے لیے سرخ لکیر ہیں۔”انہوں نے مزید کہا، “یہ صلاحیتیں نہ اب قابلِ مذاکرات ہیں اور نہ ہی مستقبل میں ہوں گی۔” کہ ایران کے “میزائل اور ڈرون پروگرام مزید ترقی کرتے رہیں گے۔”
ناظرین ،،ماہرین کاکہناہے،جنگ کے دوران ایران نے ہزاروں ڈرونز استعمال کیے، جو اس نے خلیجی ہمسایہ ممالک کی جانب داغے۔ یہ بغیر پائلٹ طیارے ایران کے لیے بڑی تعداد میں تیار کرنا نسبتاً سستا ہے اور جب انہیں بڑی تعداد میں استعمال کیا جائے تو یہ فضائی دفاعی نظاموں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ان ڈرونز کو مار گرانا بھی مہنگا ثابت ہوا ہے، کیونکہ امریکا کو ایک ڈرون گرانے کے لیے لاکھوں ڈالرمالیت کا اینٹی ڈرون میزائل سسٹم استعمال کرناپڑٖتاہے جو اسے انتہائی مہنگاپڑتاہے اسرائیل کوبھی کچھ اسی قسم کی صورتحال کاسامناہے۔۔اس جنگ میں ایران کی فتح ان سستے ڈرونزکی وجہ سے ہوئی ہے اور اسرائیل اورامریکا کوشکست اپنے مہنگے دفاعی نظاموں کی وجہ سے۔۔
ناظرین۔۔۔اسرائیل کےلبنان پرحملوں کےبعد ایران اور امریکا کےدرمیان دوسری سب سے بڑی لڑائی آبنائے ہرمزکےمعاملے پرہے،دونوں کےدرمیان آبنائےہرمزپرقبضے کی جنگ چل رہی ہے،اس حوالے سےایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب‌آبادی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے نہیں بلکہ ایران کے کنٹرول میں ہے۔ان کاکہناہے بحرین میں ہونے والا کوئی بھی فوجی اجلاس خلیج فارس کے لیے نہ تو قانونی نظام قائم کر سکتا ہے اور نہ ہی سیکیورٹی کا ضامن بن سکتا ہے۔کاظم غریب‌آبادی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز ایران کے اختیار میں ہے، سینٹ کام کے نہیں۔ بحرین میں منعقد ہونے والا فوجی اجلاس خلیج فارس کے لیے قانونی نظام اور سیکیورٹی قائم نہیں کر سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں امن و استحکام بیرونی مداخلتوں کے خاتمے، امریکا کے انخلا، ممالک کی خودمختاری کے احترام اور نئی جغرافیائی و سیاسی حقیقتوں کو تسلیم کرنے سے ممکن ہوگا، نہ کہ امریکا کی چھتری تلے۔
دوسری جانب گزشتہ روز قطرمیں ہونےوالے ایران امریکا بالواسطہ مذاکرات کےحوالےسے بات کریں توپاکستانی دفترخارجہ نے تصدیق کی ایران اور امریکا کے درمیان آنے والے دنوں میں مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی اور قطری ثالثوں کی دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کےساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں اور اس دوران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے پہلوؤں سے متعلق امور پر مثبت پیشرفت ہوئی،،اس حوالےسے قطرکاکہناہے۔
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کے بعد ایران امریکا مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے امریکا اور ایران کے درمیان دوحہ میں جاری بالواسطہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
ناظرین آخرمیں ذکرکریں گے ایرانی جوہری تنصیبات کی ،،جس پر ایران پہلے دن سے ایک ہی موقف اپنارہاہے کہ اس حوالےسے وہ کوئی کمپرومائزنہیں کرےگا،،ایران نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ بمباری سے متاثرہ ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایران کے پارلیمنٹ اسپیکر اور مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ جن ایرانی جوہری تنصیبات کو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے بمباری کا نشانہ بنایا گیا اور نقصان پہنچا، ان کا معائنہ کرنے کی کسی بھی صورت میں اجازت نہیں۔
ایران کی اسٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے واضح کیا کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کو ایران میں صرف دو مقامات تک رسائی دی گئی ہے، جن میں بوشہر جوہری بجلی گھر بھی شامل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ رسائی صرف اسی حد تک ہے اور ہم اسی کے پابند ہیں۔”
ناظرین ،،قابل غوربات یہ ہےکہ باقرقالیباف نے پہلی باربوشہر جوہری پلانٹ کےمعائنے کاذکرکیاہے ورنہ اس سےپہلے ایران مسلسل انکارکرتا رہاہے۔۔اس کامطلب یہ بھی لیاجاسکتاہے کہ بوشہر تک عالمی جوہری ادارے کورسائی مل گئی ہے توپھرآہستہ آہستہ دیگرمقامات تک رسائی بھی مل جائےگی ،ایران کا اس حوالے سے سخت موقف اندرکھاتےکسی اورکہانی کی طرف اشارہ کررہاہے۔۔اجازت دیجئے۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں