0

امریکا سے جنگ بندی کے بعد ایرانی صدر کا دورہ پاکستان، اصل مقصد کیا؟

ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے 23 جون کو پاکستان کا ایک روزہ سرکاری دورہ کیا۔

پاکستان اور قطر کی ثالثی میں ہوئی امریکا ایران جنگ بندی کے نتیجے میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اس پہلے دورے کا بظاہر واحد مقصد پاکستان سے اظہار تشکر تھا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ذرائع نے اس نمائندے کو بتایا کہ مفاہمت کی یادداشت پردستخط میں پاکستان کی جانب سے ادا کیے گئے مثبت اور تعمیری کردار کو مد نظر رکھتے ہوئے ایران نے اس دورے کا خاص طور پر اہتمام کیا تھا تاکہ اسلام آباد کی بھرپور ستائش کی جائے اور موجودہ صورتحال میں پیدا نئے مواقعوں سے فائدہ اٹھایا جائے۔

اس دورے میں صدر مسعود پزشکیان نے پاکستانی ہم منصب آصف علی زرداری، وزیراعظم شہبازشریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحق ڈار اور وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سمیت وفاقی کابینہ اور اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، صدرپزشکیان نے وزیراعظم ہاؤس کے سبزہ زار میں پودا لگایا۔ کارڈیو ویسکیولر سرجری کے ماہر صدر ایران کو پاکستان کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کی جانب سے اس دورے میں اعزازی فیلوشپ بھی دی گئی۔

ایرانی اہلکار کے مطابق اس دورے میں دونوں ملکوں کے حکام نے اس بات کاعزم بھی دہرایا کہ دوستی کے طویل البنیاد تعلقات، اچھی ہمسائیگی اور پاکستان وایران کے درمیان بھائی چارے کو مزید مضبوط کیا جائے۔

ذرائع نے بتایا کہ ایران نے جن ترجیحات پرزور دیا ان میں سے ایک باہمی تجارت کا فروغ اور بنیادی ضرورت کی لازمی اشیا کی پاکستان کے تعاون سے محفوظ فراہمی تھا۔

یہ بھی کہ توقعات کئی گنا بڑھ گئی ہیں کہ امریکا کی جانب سے ایران پر عائد پابندیاں 60 روز کیلئے اٹھائے جانے کے عرصہ میں باہمی تجارت کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔

ذرائع کے مطابق مختلف ممالک سے بھیجے گئے ایسے کارگو کنٹینرز کی قابل ذکر تعداد جن کی منزل ایرانی بندرگاہیں تھی، وہ امریکا ایران جنگ کے دوران ری ڈائریکٹ ہوکر پاکستان آگئے تھے اور اب بھی کراچی کی بندرگاہوں پرموجود ہیں۔

ایرانی حکام نے امید ظاہر کی دونوں ملکوں کے تعلقات کی مضبوطی کا یہ عملی اشارہ ہوگا کہ پاکستانی حکام کی مدد سے ان کنٹینرز کو جلد از جلد ایرانی بندرگاہوں کو روانہ کیا جائے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے اہلکار نے کہا کہ یہ قابل ستائش ہے کہ حکومت پاکستان نے پاک ایران تجارت کو فروغ دینے اور کسٹمز کے امور کو تیز تر بنانے کیلئے صوبہ بلوچستان میں تفتان ریلوے اسٹیشن کو کسٹمز پوائنٹ قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف دوطرفہ اقتصادی تعاون بلکہ سرحد پار تجارت میں مثبت اضافے کی توقعات ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں