تہران (04 مئی 2026): ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران نے نئی امن تجویز واشنگٹن کے 9 نکاتی منصوبے کے جواب میں پیش کی ہے، جس میں بنیادی طور پر 2 ماہ کی جنگ بندی کی تجویز شامل تھی۔
تاہم ایران نے اپنی تازہ تجویز میں مؤقف اپنایا ہے کہ وہ صرف جنگ بندی کو طول دینے کی بجائے جنگ کے مکمل خاتمے پر توجہ دینا چاہتا ہے، اور چاہتا ہے کہ تمام مسائل 30 دن کے اندر حل کر لیے جائیں۔
اس نئے منصوبے میں درج ذیل نکات شامل ہیں:
عارضی جنگ بندی نہیں بلکہ 30 دن میں جنگ کا مکمل خاتمہ
مستقبل میں کسی بھی حملے کے خلاف ضمانتیں
ایران کے گرد تعینات امریکی افواج کا انخلا
منجمد کیے گئے اربوں ڈالر کے ایرانی اثاثوں کی واپسی
ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ
جنگی نقصانات کی ادائیگی
تمام دشمنی کا خاتمہ، بشمول لبنان میں تنازعات
سمندری حدود کی ناکہ بندی کا خاتمہ
آبنائے ہرمز کے لیے ایک ’’نیا کنٹرول نظام‘‘
یورینیم افزودگی کو بعد میں زیرِ بحث لایا جائے
ایران، جس پر گزشتہ جون میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حملے بھی ہوئے تھے، مستقبل میں کسی بھی جارحیت کے خلاف باضابطہ ضمانت چاہتا ہے۔ اسرائیل پہلے بھی ایرانی جوہری سائنس دانوں کو نشانہ بنا چکا ہے اور ایرانی جوہری تنصیبات کو سبوتاژ کرنے کی مہمات چلاتا رہا ہے۔
