تہران (03 مئی 2026): ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے نیا قانون بنانے کا اعلان کر دیا ہے۔
ایران کے نائب اسپیکر کا کہنا ہے کہ ایک نیا قانون تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
مجوزہ بل کے تحت دشمن ملکوں کے جہازوں کو اس وقت تک آبنائے ہرمزسے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی جب تک وہ جنگ کا ہرجانہ ادا نہ کر دیں۔ دیگر ممالک کے جہاز ایران سے پیشگی اجازت اور منظوری حاصل کرنے کے بعد گزر سکیں گے۔
ایرانی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ منصوبے کے تحت اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے مستقل طور پر روک دیا جائے گا، جب کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے جہازوں کو صرف اسی صورت گزرنے کی اجازت ہوگی جب وہ جنگی ہرجانہ ادا کریں۔ اس منصوبے کے تحت اس آبی گزرگاہ کو ایرانی ’’انتظام‘‘ میں دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
ایران انٹرنیشنل کے مطابق علی نیکزاد، جو ایرانی پارلیمان کے پہلے نائب اسپیکر ہیں، نے بندر عباس کے دورے کے دوران پارلیمنٹ کی تعمیراتی کمیٹی کے اراکین سے گفتگو میں کہا کہ 12 نکاتی منصوبے کے تحت اسرائیلی جہازوں کو ’’کسی بھی وقت‘‘ گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
