امریکا نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان فریم ورک معاہدےکا اعلان کر دیا جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن معاہدے کی راہ ہموار ہوگئی۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان فریم ورک معاہدےکا اعلان امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نےکیا جس کے بعد واشنگٹن میں معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ لبنان کی خودمختار حکومت اور اسرائیل کی حکومت کے درمیان امریکا کی ثالثی اور حمایت کے ساتھ فریم ورک معاہدے کا اعلان کرنے پر خوشی ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ معاہدہ حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لیے طریقہ کار فراہم کرتاہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ معاہدے کے تحت اسرائیل اپنے شہریوں کو لاحق خطرات کے خاتمے کے بعد اپنی سرحدوں پر واپس جا سکے گا، لبنان کے لیے امریکا کی سہولت کاری میں ایک سہ فریقی فوجی رابطہ گروپ قائم کیاجائےگا۔
انہوں نے کہا کہ معاہدہ پائیدار امن اور سلامتی کا آغاز ہے ، ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔
امریکا میں اسرائیلی سفیر کا کہنا ہے کہ سہ فریقی فریم ورک معاہدہ عمل درآمد کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے گا ۔
دوسری جانب لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے کہاکہ فریم ورک معاہدے کے تحت لبنان کی ذمے داری ملک بھرمیں ریاستی عملداری قائم کرناہے، مقصد اسرائیلی افواج کی لبنان کے تمام علاقوں سے انخلا یقینی بنانا ہے۔
حزب اللہ کا سخت ردعمل
امریکا، اسرائیل اور لبنان فریم ورک معاہدے پر دستخط پر حزب اللہ کا ردعمل بھی سامنے آگیا۔
لبنان میں حزب اللہ رکن پارلیمان حسن فضل اللہ نے کہا کہ واشنگٹن میں جو کچھ ہوا وہ اسلام آباد ٹریک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے ۔ حزب اللہ لبنانی حکام کے ہر اقدام کا مقابلہ کرے گی۔
حسن فضل اللہ نے کہا کہ حزب اللہ اپنے ہتھیاروں کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوطی سے تیار رکھے گی ۔
