0

سانحہ کاہنہ کی تحقیقاتی رپورٹ میں غفلت کے سنگین پہلو سامنے آگئے، جبکہ ورلڈ بینک نے پاکستان میں وسائل کی تقسیم کے نظام پر نظرثانی کا مطالبہ کر دیا۔

ملک بھرمیں ہونےوالے اہم واقعات پر ایک نظر۔۔
لاہور میں 2روزپہلے ہونےوالے سانحہ کاہنہ کی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھجوا دی گئی۔ذرائع کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیادہ ملبہ ڈالنے سے ٹی آئرن اور گارڈر کی چھت گری، چھت پر بچوں کی موجودگی میں مٹی ڈلوانا غفلت تھی، کمزور ڈھانچہ اضافی بوجھ برداشت نہ کر سکا۔ذرائع کے مطابق چھت گرنے کے وقت خاتون ٹیچر اور 20 بچے چھت کے نیچے موجود تھے، بچوں کی اموات سر کی ہڈیوں پر زیادہ چوٹیں آنے سے ہوئیں، تاحال کسی متعلقہ سرکاری ادارے کے کسی اہلکار کی کوئی غفلت نظر نہیں آئی۔رپورٹ کے مطابق مقدمہ درج کرکے گھر کے مالک اور اس کے بھائی سمیت 5 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ماہرین کی رائے بھی رپورٹ میں شامل کردی گئی ہے۔دو روز قبل لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق ہوگئے تھے۔
اورورلڈ بینک نے پاکستان سے این ایف سی ایوارڈ کے وسائل کی تقسیم کے فارمولے پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کردیا۔تفصیلات کے مطابق ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان پر زور دیا گیا ہےکہ صوبوں میں وسائل کی تقسیم آبادی کے بجائے اخراجاتی ضروریات اور ممکنہ آمدنی کی صلاحیت کی بنیاد پر کی جائے۔ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ این ایف سی کے تحت صوبوں کو وفاق کی آمدن سے 57.5 فیصد وسائل کی فراہمی ہورہی ہے، 80 فیصد اخراجات تنخواہوں، پنشن یا دیگر انتظامی معاملات پر خرچ ہورہے ہیں، غربت کی سطح میں کمی یا عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی نہیں ہوسکی۔ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی حکومتوں کو نہ واضح اختیارات دیے گئے ہیں اور نہ ہی مناسب مالی وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں