0

تہران میں شہید رہبرِ اعلیٰ کی آخری رسومات جاری، دنیا بھر سے آئے لاکھوں سوگوار خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں جبکہ خطے کی کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

ناظرین۔۔
ایران کےشہید رہبراعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات جاری ہیں ،،یہ رسومات چھ روزتک ایران اور عراق کے شہروں میں جاری رہیں گی ،تہران اس وقت دنیا بھرسے آئے سوگواروں ،عقیدت مندوں ،عالمی رہنماوں کامرکزبن چکاہےجہاں شہید رہبراعلیٰ کو ہرکوئی اپنے اپنے اندازمیں خراج عقیدت پیش کررہاہے،،،
جب دنیا بھرسے لوگ تہران پہنچ رہے تھے تو ائیرپورٹ پرایک حیران کن منظرانہیں دیکھنے کوملا،،ائیرپورٹ پران کااستقبال کسی ا ورنےنہیں بلکہ سکول کےبستوں نے کیا،کوئی ادھررکھاہواتھا،کوئی ادھررکھاگیاتھا،،یہ سکول بیگ
ان بچوں کےتھے جنہیں عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق امریکا نے سفاکانہ بمباری سے شہید کردیاتھا،،،، امریکہ اور اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے 168 اسکول کے بچوں کے بیگز اور تصویریں دیکھ کر دنیا کےکونےکونےسے آنےوالے لوگ سوگوارہوگئے،،غمزدہ ہوگئے،،ایرانی حکام کا ائیرپورٹ پر یہ سکول کےبیگ رکھنے کامقصدیہی تھاکہ ہر آنے والا غیر ملکی مہمان یہ ظلم دیکھ سکے ،جو نام نہادمہذب ملک اسرائیل اورامریکا نے ڈھایاتھا اور آج تک اپنے اس ؎ظلم کونہ توقبول کیا، نہ معافی مانگی ۔۔۔۔

ناظرین تازہ ترین اپڈ یٹ یہ ہےکہ شہید رہبراعلٰی کی نمازجنازہ کی مرکزی تقریب تہران کےگرینڈمصلیٰ کمپلیکس میں ہوگی جہاں ہزاروں افراد جمع ہوچکےہیں ۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق نمازِ جنازہ کے شرکاء نے ہاتھوں میں سرخ جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے جو انتقام کی علامت سمجھے جاتے ہیں جبکہ مجمع نے ’امریکا مردہ باد‘ اور ’انتقام، انتقام‘ کے نعرے بھی بلند کیے۔الجزیرہ کے مطابق جنازے کی آمد سے قبل بڑی تعداد میں سوگوار خواتین کو بھی احاطے میں موجود دیکھا گیا۔اس سے قبل تہران کے مختلف میٹرو اسٹیشنز پر بھی لوگوں کی بڑی تعداد جمع دیکھی گئی جو میٹرو سروس کھلنے کا انتظار کر رہی تھی تاکہ نمازِ جنازہ میں شرکت کی جا سکے
جنازے میں ایک سےڈیڑھ کروڑکےدرمیان افراد کی شرکت متوقع ہےسکیورٹی کےسخت انتظامات کئےگئےہیں ،،آنےوالوں کی میزبانی کیلئے ایرانیوں نے اپنے دروازے کھول دئیےہیں اسکولوں کے تقریباً 40 سے 50 ہزار کلاس رومز بھی کھول دیے گئے ہیںایرانی خبر ایجنسی کے مطابق وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کے لیے آنے والوں کو ملک بھر میں 5000 اسکول اور تقریباً 40 سے 50 ہزار کلاس رومزکھول دیے گئے ہیں۔تاکہ لوگ ان کمروں میں قیام کرسکیں ،تدفین تک رہنا چاہیں تورہ سکیں ،،
گزشتہ روز پاکستان کےعلاوہ دیگرممالک کے رہنماوں نے شہید آیت اللہ خامنہ کوخراج عقیدت پیش کیا،،،وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے شہید سپریم لیڈر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سپریم لیڈر شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کی، حکومت پاکستان اور عوام کی جانب سے ایران سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا۔وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سید علی خامنہ ای کی دانشمندانہ قیادت اور خطے کیلئے خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ پاکستان غم کی اس گھڑی میں برادر ملک ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔ان کا کہنا تھا شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے اعلی سطح کا وفد بھی تھا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی وفد میں شامل تھے، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق بھی وفد کا حصہ تھے، سینئر وفاقی وزرا اور اعلی حکام نے بھی ایرانی قیادت سے اظہار تعزیت کیا۔
اس موقع پرفیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے تہران میں ملاقات کی۔ملاقات کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی ایران کے لیے خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کے بعد وطن واپسی کے لیے روانہ ہوگئے، ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور اعلیٰ سول و ملٹری حکام نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو الوداع کہا
ایرانی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ وليد بن عبدالكريم الخريجی نے وفد کے ہمراہ شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی۔۔فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے اعلیٰ سطح کے وفد نے تہران میں شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی۔حماس کے وفد میں اسماعیل درویش، موسیٰ محمد ابو مرزوق، ظاہر جبارین، باسم نیعم اور ڈاکٹر خالد قدومی سمیت دیگر شامل تھے۔ افغانستان کے طالبان مخالف رہنما احمد مسعود نے بھی شہید ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے تعزیتی اجتماع میں شرکت کی۔غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق احمد مسعود بیرون ملک سے افغان طالبان مخالف اپوزیشن گروہ کی قیادت کرتے ہیں۔
ناظرین ۔۔جنازے کےدوران بھی ایرانی قیادت غافل نہیں ہے چوکنا ہوکر امریکا اوراوراسرائیل کی ایک ایک حرکت پرنظررکھے ہوئے،،ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز غیر علاقائی طاقتوں کے فوجی مظاہرے کا میدان نہیں ہے۔سوشل میڈیا پر جاری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ بحران پیدا کرنے والے اپنی مہم جوئی کے نتائج کے ذمے دار خود ہوں گے۔ایرانی نائب وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کا ضامن ہونے کے ناتے آبی گزر گاہ میں کسی بھی فوجی نقل و حرکت کے خلاف خبردار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی ساحلی ریاستوں کی ذمے داری ہے۔
کاظم غریب آبادی کایہ بیان فرانس اوربرطانیہ کے اس بیان کےردعمل میں آیاہے جس میں کہاگیاتھافرانس نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے لیے مائن ہنٹرز (بارودی سرنگیں تلاش کرنے والے بحری جہاز) تعینات کر دیے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ فرانس کے مائن ہنٹرز “شراکت داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی اور جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہیں۔”

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں