0

برطانیہ میں سزا یافتہ گرومنگ گینگ کے سرغنہ شبیر احمد کی ملک بدری پر پاکستان اور برطانیہ کے درمیان سفارتی کشیدگی بڑھ گئی۔

برطانیہ میں بچیوں سے زیادتی اور استحصال کےجرم میں گرفتارگرومنگ گینگ کے سرغنہ شبیر احمد کی ملک بدری کا معاملہ برطانیہ اور پاکستان کے درمیان سفارتی تنازع شدت اختیار کر گیا
برطانیہ اور پاکستان کے درمیان گرومنگ گینگ کے سرغنہ اور سزا یافتہ مجرم شبیر احمد کی ملک بدری کے معاملے پر ایک نیا سفارتی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔ برطانوی حکومت کی جانب سے شبیر احمد کی ملک بدری کے مطالبے اور ویزا پابندیوں کے انتباہ نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔برطانوی پارلیمنٹ کی خارجہ کمیٹی میں گفتگو کرتے ہوئے برطانوی وزیر یوویٹ کوپر نے اس معاملے پر برطانوی حکومت کی واضح پالیسی اور تشویش کا اظہار کیا انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ یہ معاملہ متعدد بار اعلیٰ سطح پر اٹھایا جا چکا ہے اور اسے آئندہ بھی تسلسل کے ساتھ اٹھایا جاتا رہے گا ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ صرف شبیر احمد کا واحد کیس نہیں ہے، بلکہ ایسے دیگر کئی کیسز بھی موجود ہیں جن پر پاکستان کے تعاون کی ضرورت ہے یوویٹ کوپر نے انتہائی سخت لہجہ اپناتے ہوئے واضح انتباہ دیا کہ اگر پاکستان نے شبیر احمد کو واپس لینے سے انکار کیا، تو اس کے نتیجے میں پاکستان پر سفارتی اور ویزا پابندیاں (Visa Restrictions) بھی عائد کی جا سکتی ہیں۔
دوسری جانب، پاکستان نے اس معاملے کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے برطانوی حکومت کی اپنی داخلی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے پاکستانی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا شبیر احمد کا معاملہ مکمل طور پر برطانیہ کا اندرونی اور قانونی مسئلہ ہے، اس لیے پاکستان اس معاملے میں فریق نہیں ہے۔ناظرین کو بتاتے چلیں شبیر احمد برطانیہ کے ایک بدنامِ زمانہ ‘گرومنگ گینگ’ کا سرغنہ ہے۔اسے سال 2012 میں سنگین جنسی جرائم، بچوں کے استحصال اور دیگر گھناؤنے الزامات ثابت ہونے پر طویل قید کی سزا سنائی گئی تھی۔یہ مجرم حال ہی میں اپنی سزا کا دورانیہ پورا کرنے کے بعد برطانوی جیل سے رہا ہوا ہے، جس کے بعد برطانوی ہوم آفس اسے فوری طور پر پاکستان ڈیپورٹ (Deport) کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں