0

ایران امریکا معاہدے کے باوجود آبنائے ہرمز، جوہری نگرانی اور منجمد اثاثوں جیسے معاملات پر اختلافات برقرار ہیں، جو مستقبل میں نئی کشیدگی کا سبب بن سکتے ہیں۔

ناظرین۔۔۔
ایرانی چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ایران امریکا معاہدے کو امریکا کی شکست کا اعلان قرار دے دیاہے،،اوراس میں کوئی شک نہیں ،فتح وہ جس کاپوری دنیا اعتراف کرے ،،جیت وہ جسے دنیا تسلیم کرے بے شک جنگ بندی ہوچکی ہے ،،مذاکرات ہوچکےہیں اورڈیل جاری ہے۔۔۔پوری دنیا ایک ہی بات کہہ رہی ہےایران جیت گیا امریکا ہارگیا۔۔۔
ناظرین۔۔۔آذربائیجان میں او آئی سی پارلیمانی یونین اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت دباؤ اور جبر کا نتیجہ نہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ایرانی قوم کی مزاحمت، استقامت اور طاقت کا مظہر ہے، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امریکا کی شکست کا اعلان بن گئی ہے۔باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ خطے کے ممالک علاقائی سلامتی کو خود یقینی بنائیں، بیرونی مداخلت مسترد کریں۔انہوں نے کہا کہ خطے کے ممالک کے ساتھ خودمختاری کے احترام کی بنیاد پر تعاون کے لیے تیار ہیں۔
ناظرین ۔۔۔آبنائے ہرمزکےمعاملے پر امریکا اورایران میں طےپایاہےکہ نیا میکنزم بنایاجائے گاجس کےتحت آبنائےہرمزکاکنٹرول ایران کےپاس رہےگا،،ساراانتظام وہ سنبھالےگااور عمان اس کاساتھ دےگا،،دونوں ممالک جہازوں کی آمدورفت پر ریونیوبھی جمع کریں گے۔۔لیکن قطرنے اس حوالےسے نیا موقف اختیارکرنا شروع کردیاہے۔۔قطر کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی کے لیے امریکا اور ایران کے درمیان ہاٹ لائن انتہائی اہم ہے۔ ہاٹ لائن کا مقصد غلط معلومات اور کسی بھی ممکنہ اشتعال انگیزی کو روکنا ہے، بعض عناصر معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ جہازوں کو ملنے والی کسی بھی دھمکی کی ایران سے تصدیق کی جائے۔شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا ہے کہ قطر آبنائے ہرمز سے گزرنے پر فیس عائد کرنے کے کسی ایرانی منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر ایران کوئی مجوزہ ماڈل پیش کرتا ہے تو اسے اس کے حق میں دلائل دینا ہوں گے، جبکہ قطر اس مجوزہ ماڈل کا جائزہ لے گا۔قطری وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ دنیا تک ہماری رسائی کے واحد راستے پر کسی اور کا کنٹرول قابلِ قبول نہیں ہو گا، آئندہ 30 دنوں میں بحری سرگرمیاں جنگ سے پہلے کی سطح کے قریب پہنچ جائیں گی۔شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے کہا کہ قطر چند ہفتوں میں ایل این جی کی پیداوار معمول پر لانے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم یہ آبنائے ہرمز میں صورتِ حال کے معمول پر آنے سے مشروط ہو گا۔
ناظرین۔۔یہی بات مریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو کررہےہیں ،،وہ کہتے ہیں آبنائے ہرمز پر کوئی ملک ٹول یا فیس عائد نہیں کر سکتا، عالمی آبی راستے پر ٹیکس یا فیس لگانا بین الاقوامی قانون کے خلاف ہے۔مارکو روبیو نے ابوظبی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو انقلابی تحریک کے بجائے بطور ریاست کام کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ایران ریاست کے طور پر کام کرے تو بڑی ترقی کے مواقع ہیں، خطے میں جب تک ایرانی پراکسیز حملے کریں گے کشیدگی ختم نہیں ہو سکتی۔امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ عراق سے میزائل اور ڈرون حملے علاقائی امن کیلئے بڑا خطرہ ہیں، عراق میں بھی حماس، حزب اللّٰہ جیسے گروہ دہشتگردی میں ملوث ہیں۔امریکا ایران بات چیت میں یہ موضوع بھی جلد زیر بحث آئے گا، ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے کے تمام ممالک امریکا کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔
ناظرین ۔۔اگرچہ ایران امریکا ڈیل ہوچکی ہے،لیکن اب بھی کئی معاملات میں دونوں ممالک کےدرمیان اختلافات موجود ہیں ،یہاں تک کہ خطے کے ممالک بھی کئی ایشوزپر راضی نہیں ہیں جن میں ایک آبنائے ہرمزکا ایرانی کنٹرول اور ریونیوجمع کرنے کامنصوبہ بھی شامل ہے،،جوہری پروگرام کی انسپکشن کےمعاملے پربھی کچھ اسی قسم کی صورتحال ہے صدرٹرمپ کہتےہیں جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی کے ماہرین ایرانی جوہری تنصبات کا دورہ کریں گے اور وہاں موجود افزودہ یورینئم کوحاصل کریں گےلیکن ایران مسلسل انکارکررہاہے ،،وزارت خارجہ کےترجمان اسماعیل بقائی کہتےہیں ایران ایساکسی صورت نہیں ہونے دےگا،،ایک اورمسئلہ ایران کےمنجمد اثاثوں کااستعمال ہے صدرٹرمپ اور دیگر عہدیدارکہتےہیں ایران ان اثاثوں سے امریکی سویابین، گندم اور مکئی خریدےگا،یعنی امریکا پیسے دے گاجواسی سے اناج کی خریداری پرواپس آجائےگا،،امریکی کسانوں کوفائدہ ہوگااورایران کےہاتھ کچھ نہیں آئے گااس پرایران کاکہناہے وہ اپنی مرضی سے اپنے پیسے خرچ کرےگا،امریکا سے کچھ لینے کاپابندنہیں ہے ہاں اگرضرورت محسوس ہوئی تو وہ امریکا سے اپنے عوام کےفائدے کیلئے کچھ خریدلےگالیکن یہ شرط بھی اسے قبول نہیں ۔۔
ناظرین۔امریکی شرائط سے لگ رہاہے وہ ایران کوکسی نہ کسی طرح اپنامحتاج بناکررکھنا چاہتاہے،،معاشی طورپر،،مالیاتی طورپراور انتظامی طورپریہی وجہ ہے وہ ہر چیزپر شرط لگارہاہے جس کاایک ہی مقصد ہے کہ ایران امریکا سے لینے کیلئے اپنا ہاتھ آگے بڑھائے رکھے۔مکمل خودمختاری کی طرف نہ جائے ، معاشی ، سیاسی سماجی طورپر امریکا کی طرف دیکھتارہے،،کئی دہائیوں سے خودمختاری کی زندگی جینےوالاایران کبھی بھی یہ برداشت نہیں کرےگاکبھی بھی اپنی خودمختاری اورخود انحصاری کاسودانہیں کرےگا۔۔یہ بات طےہے۔۔اس بات پر دونوں ممالک کسی بھی وقت پھرآمنے سامنے ہوسکتےہیں ۔۔کب۔۔یہ وقت بتائےگا۔۔۔اجازت دیجئے۔۔اللہ حافظ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں