0

ایران کے بحرین اور کویت میں امریکی اہداف پر حملوں، منجمد اثاثوں کی واپسی اور امریکا اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائیوں نے خطے میں نئی صف بندی اور بڑھتی کشیدگی کے خطرات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

ناظرین۔۔۔
ہم بارباراس طرف اشارہ کرتے رہے ہیں کہ ایران امریکا جنگ کا اصل مقصد خطے میں مسلمان ممالک کولڑاکر خطے کوہمیشہ کیلئے آگ ،بارود اور جنگ میں دھکیلنا چاہتاہے۔۔جنگ کےدوران اسرائیل اورامریکا نے اس مقصد کیلئے بہت کوشش کی ۔کئی سازشیں کیں ، مسلم ممالک کو ترغیب دلائی ،جعلی حملوں کےذریعے ایک دوسر ے کےخلاف لڑنے پراکسایالیکن ناکام رہا۔۔
ناظرین۔۔اب لگ رہاہےامریکا خطےکےمسلمان لڑانے کی سازش میں کامیاب ہونے کےقریب پہنچ چکاہے کیونکہ ایران نے بحرین کو خبردار کیا ہے کہ اشتعال دلایا گیا تو پوری قوت کے ساتھ حملہ کیا جائے گا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ بحرینی حکام کو سنجیدہ وارننگ دی جا رہی ہے کہ وہ اپنی حدود میں رہیں، اپنی تقدیر سے نہ کھیلیں اور ایران کو سخت فیصلے کرنے پر مجبور نہ کریں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے جمعے اور ہفتے کو امریکی حملوں کے بعد بحرین میں امریکی بحریہ کے اڈے کو نشانہ بنایا۔ایران کا دعویٰ ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو اس کی سر زمین پر حملوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔دوسری جانب خلیجی ممالک نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ بحرین نے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی کم کرنے اور استحکام کے مواقع کو نقصان پہنچاتے ہیں
ایران نے کویت اوربحرین پر جوحملے کئے ان میں امریکی تنصیبات کونشانہ بنایاگیا۔۔۔ایران کی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں 8 امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناکر تباہ کر دیا۔سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے مطابق پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حملوں میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کیا گیا۔ بیان میں ان کارروائیوں کو سیرک اور قشم میں ایرانی تنصیبات پر حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی جوابی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ یہ حملے ایران کی دفاعی صلاحیت اور ردِعمل کی واضح مثال ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کے خدشات بھی پیدا ہو گئے ہی

ناظرین ۔۔ایک طرف پاسداران انقلاب کےحملے ہیں تودوسری جانب ایرانی سیاسی قیادت کے بیانات یوں لگ رہاہے جیسے امریکا پردباو بڑھایاجارہاہے،،،غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق صدر مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مجموعی طور پر 12 ارب ڈالرز کی رقوم میں سے آدھی رقم واپس ایران منتقل کی جائے گی۔ایرانی صدر نے کہا ہے کہ یہ پیش رفت موجودہ مذاکرات اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سامنے آ رہی ہے تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ صورتِ حال مسلسل بدل رہی ہے اور معاملات پر پیش رفت جاری ہے۔دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ایران کے کسی منجمد اثاثے کی حوالگی عمل میں نہیں آئی ہے۔
دوسری جانب ۔۔۔ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجائی نے کہا ہے کہ ایرانی عدالتوں نے ایرانی عوام کے خلاف جرائم کے الزامات پر متعدد امریکی حکام کے خلاف فیصلے جاری کر دیے ہیں۔انہوں نے عزم ظاہر کیا ہے کہ جیسے ہی ان حکام کے اثاثوں تک رسائی ممکن ہوئی ان فیصلوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔محسنی ایجائی کا کہنا تھا کہ ایران اب تک ان حکام کے اثاثوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکا، تاہم جیسے ہی یہ ممکن ہوا، عدلیہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرے گی۔انہوں نے حال ہی میں ایک امریکی جہاز کی ضبطگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اثاثے ان ایرانیوں کے حق میں ضبط کیے گئے جو امریکی جرائم سے متاثر ہوئے اور یہ محض ایک مثال ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر مستقبل میں ایران کو ’مجرم امریکیوں‘ کے اثاثوں تک رسائی حاصل ہوگئی تو انہیں عدالتی احکامات کے مطابق ضبط کر لیا جائے گا
دوسری جابب ۔۔۔ایرانی سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم پر قانونی کارروائی کا حکم دے دیا۔اپنے بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ ایران کے خلاف جرائم کا قومی اوربین الاقوامی عدالتوں میں محاسبہ ہونا چاہیے۔ایرانی سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ بعض امریکی اور اسرائیلی رہنماؤں کے بیانات مجرمانہ ذمہ داری کا اعتراف ہیں، بیانات نے ایرانی قوم کے حقوق کی بحالی کے لیے قانونی بنیاد فراہم کردی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں