0

حافظ نعیم نے نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کردیا

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم نے نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کردیا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ حکومت کا آدھا بجٹ سود میں جاتا ہے، اعلیٰ عدالتی احکامات کے باوجود حکومت سود ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ نئے بجٹ میں کوئی نئی چیز نہیں، بجٹ میں تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا اور مہنگائی 8 فیصد بڑھی، مہنگائی کے دور میں نجی شعبے کے لیے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا، تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا، نجی شعبے کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

حافظ نعیم کا کہنا تھاکہ پیپلز پارٹی جمہوریت کی قاتل ہے، جمہوریت اور پیپلز پارٹی ایک دوسرے کی ضد ہیں، صوبے پر 18 سال سے پیپلز پارٹی کا قبضہ ہے، اندورنِ سندھ میں بچوں کو تعلیم اور صحت کیوں نہیں مل رہی، بنیادی صحت مراکز کا برا حال ہے، سندھ میں تعلیم روزگار اور صحت کا فقدان ہے، شہر میں سرکاری پبلک ٹرانسپورٹ موجود نہیں، سوال ہے ان سے جن لوگوں نے میئر اور پیپلز پارٹی کو ہم پر مسلط کیا۔

امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں ارکان کی خرید فروخت ہمارے ٹیکس کے پیسوں سےکی جا رہی ہے، پیٹرول پر لیوی کا اطلاق ان پر ہو رہا ہے جو ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں، لیوی اس لیے کم کی گئی ہے کہ ہدف پورا کر کیا گیا، لیویز کا نفاذ ناجائز ہے، لیوی کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے، حکومت کو پیٹرول کی قمیت 225 روپے 3 سال تک فکس کرنی چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں