0

روزگار کی تلاش یا موت کا سفر؟ ڈنکی لگانے والوں کی دل دہلا دینے والی داستان

ناظرین! پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور غیر یقینی معاشی حالات نے ہمارے نوجوانوں کو ایک ایسے اندھے کنویں میں دھکیل دیا ہے، جہاں سے نکلنے کا راستہ اکثر موت کی وادی سے ہو کر گزرتا ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس خصوصی اور درددل سے بھرپور ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک ہجرت جہاں قانونی طریقوں سے زرمبادلہ کا ذریعہ بنتی ہے، وہیں ایجنٹوں کے جھانسے میں آ کر غیر قانونی راستوں، یعنی ‘ڈنکی’ کا انتخاب درجنوں گھرانوں کے چراغ گل کر رہا ہے۔ بیورو آف امیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال تقریباً 7 سے 8 لاکھ پاکستانی قانونی طور پر بیرونِ ملک جاتے ہیں، جن میں سے 80 فیصد کا رخ سعودی عرب اور یو اے ای سمیت خلیجی ممالک کی طرف ہوتا ہے۔ لیکن دوسری جانب، بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، سالانہ 30 سے 50 ہزار افراد انسانی اسمگلروں کے ذریعے یورپ پہنچنے کے لیے موت کے سفر پر نکل پڑتے ہیں۔
ناظرینِ گرامی! ان غیر قانونی سفروں کے لیے بنیادی طور پر دو خطرناک روٹس استعمال ہوتے ہیں۔ پہلا راستہ ایران اور ترکی سے ہوتا ہوا یونان اور بلقان ریاستوں تک جاتا ہے، جبکہ دوسرا موت کا روٹ دبئی سے لیبیا اور پھر بحیرہ روم کے راستے اٹلی یا یونان تک پہنچتا ہے۔ ان راستوں پر نوجوانوں کو جانوروں کی طرح کنٹینرز اور بوسیدہ کشتیوں میں ٹھونسا جاتا ہے، جہاں بھوک، تشدد اور دم گھٹنے سے اموات روز کا معمول ہیں۔ جون 2023 میں یونان کے ساحل پر پیش آنے والا کشتی کا سانحہ ملکی تاریخ کا دردناک ترین باب تھا، جس میں 300 کے قریب پاکستانی لقمہ اجل بن گئے۔ گزشتہ چند برسوں میں لیبیا اور یورپی سرحدوں پر ہزاروں پاکستانی لاپتہ یا جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ویوورز! اگرچہ حکومتِ پاکستان اور ایف آئی اے نے انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے، ایجنٹوں کے نام بلیک لسٹ کیے ہیں اور سرحدی نگرانی سخت کی ہے، لیکن کیا یہ اقدامات کافی ہیں؟ جب تک نوجوانوں کے لیے اندرونِ ملک روزگار کے راستے ہموار نہیں ہوتے، صرف آگاہی مہمات اور گرفتاریاں اس مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوسکتیں۔
اس حوالے سے سینئر صحافی ظہیر اختر خواجہ نے اپنے ایک آرٹیکل “آج کا نوجوان ڈنکی لگانے پر مجبور کیوں؟” میں اس مسئلے کی اصل جڑ کو بے نقاب کیا ہے۔ آئے روز کشتی الٹنے اور درجنوں نوجوانوں کے ڈوبنے کی خبریں آتی ہیں، ہم چند لمحے افسوس کرتے ہیں اور پھر زندگی آگے بڑھ جاتی ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ جس عمر میں نوجوان کے ہاتھ میں کتاب یا ہنر ہونا چاہیے، وہ موت کے سمندر کا سفر کیوں اختیار کرتا ہے؟
ناظرین! کیا وہ موت کا شوقین ہے؟ ہرگز نہیں! وہ زندگی چاہتا ہے۔ ایسی زندگی جس میں عزت ہو، روزگار ہو اور اپنے والدین کے لیے سہارا بننے کی امید ہو۔ کوئی بھی نوجوان خوشی سے بوڑھے ماں باپ کو چھوڑ کر ایسی کشتی میں سوار نہیں ہوتا جس کی منزل کا اسے خود پتہ نہ ہو۔ کسی کے ذہن میں بہن کے ہاتھ پیلے کرنے کی فکر ہے، تو کوئی گھر کی چھت بنانے اور بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے نکلا ہے۔ یہ خواب غلط نہیں ہیں، ویوورز! غلط وہ نظام ہے جو ان خوابوں کی تعبیر کے لیے نوجوانوں کو خطرناک راستوں پر دھکیل دیتا ہے۔
ذرا اس والد کا تصور کیجیے جو اپنے بیٹے کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے، اس کی تعلیم کے لیے اپنی ضروریات قربان کرتا ہے تاکہ بڑھاپے میں وہ اس کا سہارا بنے۔ مگر پھر وہی بیٹا ایک غیر قانونی راستے سے پردیس روانہ ہو جاتا ہے۔ وہ ماں، جسے بچے کو کانٹا چبھنے پر بھی درد ہوتا تھا، آج اسے ایسے سفر پر رخصت کرنے پر مجبور ہے جہاں واپسی کی کوئی ضمانت نہیں۔ یہ صرف نوجوان کی مجبوری نہیں، یہ ایک ماں کی بے بسی بھی ہے۔
ویوورز! ہم نوجوانوں کو ‘ڈنکی’ سے روکنے کے لیے سخت قوانین بنا سکتے ہیں اور ایجنٹوں کو پکڑ سکتے ہیں، لیکن جب تک ہم اس سوال کا جواب نہیں دیتے کہ ایک ڈگری یافتہ اور ہنر مند نوجوان کو اپنے ہی ملک میں روزگار کیوں نہیں مل رہا، یہ سلسلہ نہیں رکے گا۔ میرٹ کی پامالی اور سفارش کلچر نے اسے مایوس کر دیا ہے۔ ایک ایجنٹ پکڑا جائے گا تو دوسرا آ جائے گا، ایک کشتی ڈوبے گی تو دوسری روانہ ہو جائے گی۔
ناظرین! ہمیں نوجوانوں کو صرف یہ نہیں کہنا کہ ‘ڈنکی مت لگاؤ’، بلکہ انہیں یہ یقین دلانا ہوگا کہ ان کا مستقبل اپنے وطن میں بھی محفوظ ہے۔ انہیں روزگار دیں، چھوٹے کاروبار کے لیے آسان قرض دیں اور ٹیکنیکل تعلیم کو فروغ دیں۔ نوجوان اس ملک کا بوجھ نہیں، سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اگر ہم نے آج لاشیں گننے کے بجائے ان وجوہات کو دور نہ کیا، تو ایجنٹ انہیں یورپ کے جھوٹے خواب دکھاتے رہیں گے اور سمندروں سے ہمارے پیاروں کی لاشیں گرتی رہیں گی۔
اپنے نوجوانوں کو موت کے راستے سے واپس لانا ہے تو انہیں اپنے ہی ملک میں زندگی کا راستہ دینا ہوگا۔ اس حساس اور دردناک مسئلے پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں۔ سچی اور ‘پکی خبر’ کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں