0

آبنائے ہرمز بند، امریکی طاقت کو بڑا چیلنج

ناظرین! امریکا اور ایران کے درمیان جاری اس ہولناک جنگ نے اب ایک ایسا ذاتی اور لرزہ خیز رخ اختیار کر لیا ہے، جس نے براہ راست امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کو خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد اور ‘پکی خبر’ کے اس سنسنی خیز اور تفصیلی ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

ویوورز! امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا 20 سالہ بیٹا ‘بیرن ٹرمپ’ اس وقت شدید سیکیورٹی خدشات کے باعث گھر میں مکمل طور پر قید ہو کر رہ گیا ہے۔ نیویارک پوسٹ کے مطابق بیرن نے نیویارک یونیورسٹی کے دوسرے سال کی تعلیم کے باوجود اپنا سارا وقت خوف کے سائے میں گزارا ہے۔ یہ خوف اس وقت مزید بڑھ گیا جب ان کے قریبی دوست اور قدامت پسند کارکن چارلی کرک کو قتل کر دیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ بیرن نے خود اپنے والد کو فون کر کے یہ لرزہ خیز اطلاع دی اور کہا کہ جب آپ باہر نکلتے ہیں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ حالات اس قدر سنگین ہیں کہ خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے بائیڈن دور سے ہی اپنے بیٹے کی سیکیورٹی میں توسیع کروا لی تھی اور اب وہ میڈیا سے درخواست کر رہی ہیں کہ بیرن کی نجی زندگی کو خبروں کی زینت نہ بنایا جائے۔

ناظرین! اس خوف کی اصل وجہ وہ تہلکہ خیز اور خطرناک نشریات ہیں جو ایران کے سرکاری ٹی وی پر دکھائی گئی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب سے وابستہ چینل 3 نے باقاعدہ ایک پروگرام نشر کیا جس کا عنوان تھا، ‘بیرن ٹرمپ کو کہاں قتل کیا جائے؟’۔ اس پروگرام میں نہ صرف بیرن کی روزمرہ کی نقل و حرکت کو تفصیلی طور پر دکھایا گیا بلکہ اس کی ہلاکت پر 10 ملین ڈالرز، یعنی ایک کروڑ ڈالر انعام کا اعلان بھی کیا گیا! سب سے زیادہ سنسنی خیز دعویٰ یہ کیا گیا کہ ایک ایرانی لڑکی مبینہ طور پر امریکی سیکرٹ سروس کی سخت ترین نگرانی کو عبور کر کے بیرن ٹرمپ کے ساتھ بیٹھنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ اس سے قبل ایرانی ٹی وی پر میلانیا ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی ویڈیو بھی چلائی گئی تھی جس کے آخر میں سیدھی دھمکی دی گئی تھی کہ “یہ صرف آغاز ہے، بیرن ٹرمپ! ہمارا انتظار کرو۔” امریکی سیکرٹ سروس نے اس سنگین ترین دھمکی کا نوٹس لے لیا ہے اور وائٹ ہاؤس میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔

ویوورز! اس خوفناک اعصابی جنگ کے ساتھ ساتھ ایران نے عسکری محاذ پر بھی امریکا کو للکارا ہے۔ ایران کے قائم مقام وزیر دفاع مجید ابن الرضا نے ایک انتہائی پراسرار وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے پاس اپنے دشمنوں کے لیے کئی ‘سرپرائزز’ موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وقت آنے پر دشمن کو خود ان سرپرائزز کا پتہ چل جائے گا۔ پچھلے چھ ماہ کی اس جنگ میں ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اور انٹیلی جنس تنصیبات کو اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچایا ہے۔ امریکی میڈیا خود اعتراف کر رہا ہے کہ پینٹاگون کے پاس میزائلوں کو روکنے والے مہنگے انٹرسیپٹرز کا ذخیرہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے، حالانکہ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون اس کی تردید کر رہے ہیں۔

ناظرین! یہ طویل جنگ اب ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے لیے ایک گلے کی ہڈی اور سب سے بڑا سیاسی و عسکری چیلنج بن چکی ہے۔ امریکی اخبارات تجزیہ کر رہے ہیں کہ چھ ماہ گزرنے کے بعد بھی ایرانی حکومت جوں کی توں قائم ہے، آبنائے ہرمز بند پڑی ہے اور امریکا کے مہنگے ہتھیاروں کے ذخائر تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ ایرانی قیادت نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ڈرونز اور بارودی سرنگوں جیسے کم لاگت ہتھیاروں سے دنیا کی طاقتور ترین فوج کو لوہے کے چنے چبوا سکتی ہے۔ اسی ناکامی پر امریکی رکن کانگریس یاسمین انصاری نے ٹرمپ انتظامیہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے فوری مواخذے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اندھی جنگ میں 120 معصوم اسکول کے بچے اور 18 امریکی فوجی جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ امریکی عوام تاریخ کی بلند ترین پیٹرول قیمتوں کے بوجھ تلے دب چکے ہیں۔

اور آخر میں ویوورز! بات کرتے ہیں اس جنگ کے ایرانی عوام پر پڑنے والے اثرات کی۔ اگرچہ ایرانی حکومت نے ملکی مفادات کی خاطر سفارت کاری اور دفاع کو ساتھ لے کر چلنے اور ڈالر پر انحصار کم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، لیکن زمینی حقائق انتہائی تلخ ہیں۔ مہنگائی اور معاشی مشکلات نے عام ایرانی شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ تہران کی رہائشی خواتین، جو پہلے کام نہیں کرتی تھیں، اب ہوشربا مہنگائی کے باعث ملازمتیں ڈھونڈنے پر مجبور ہیں، جبکہ ایرانی نوجوان اپنا مستقبل تاریک دیکھ رہے ہیں اور ان کی امیدیں ٹوٹ رہی ہیں۔

کیا یہ جنگ امریکا کو اندرونی طور پر کھوکھلا کر دے گی یا ایران معاشی بوجھ تلے دب جائے گا؟ کیا بیرن ٹرمپ واقعی ایرانی نشانے پر ہیں؟ عالمی سیاست کے اس بدلتے منظرنامے اور ہر ‘پکی خبر’ کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیجیے۔ آپ کا میزبان راجہ واجد اجازت چاہتا ہے، اللہ حافظ!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں