0

غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کا معاملہ، دوسری خاتون کا مجسٹریٹ کے سامنے دیا گیا بیان بھی سامنے آگیا

غیر ملکی خواتین کے اغوا اور مبینہ زیادتی کے مقدمے میں شامل دوسری غیر ملکی خاتون کا بیان بھی سامنے آگیا۔

اغوا اور زیادتی کے مقدمے کی دوسری متاثرہ غیرملکی خاتون اسٹیفنی ایڈرائنا نے مجسٹریٹ کے روبرو اپنے بیان حلفی میں کہا کہ رضا ڈار سے کرپٹو کرنسی ایونٹ میں سنگاپور میں ملاقات ہوئی، رضا ڈار پر اعتماد کیا، اور اس نے مل کر کاروبار شروع کیا، رضا ڈار ہمیشہ یہ کہتا کہ وہ پاکستان کے منسٹر علی ڈار کا بیٹا ہے، رضا ڈارکے واٹس ایپ پر ایک سابق وزیراعظم کے ساتھ اس کی تصویر لگی ہوئی تھی، میں نے بھی انہی وجوہات کی وجہ سے اس کے لیے مستعدی سے کام کیا۔

غیر ملکی خاتون نے کہا کہ وہاں موجود لوگ کانچ دکھا کر اس کے ذریعے ٹکڑے کرنے کی دھمکی دیتے رہے، رضا ڈار نے میرے نمبر سے تمام کانٹیکٹس کو رقم کے لیے میسج بھجوائے مگر کسی نے جواب نہ دیا، آخری روز رضا ڈار نے کہا کہ ساری رقم میں نے حاصل کر لی ہے اور اب تم آزاد ہو۔

اسٹیفنی ایڈرائنا نے کہا کہ رضا ڈار نے ہمیں کار میں بٹھایا اور گھر سے باہر لے آیا، اس نے کار میں پاسپورٹ بھی ہمارے حوالے کر دیے، وہ ہمیں ائیر پورٹ لے کر جا رہا تھا اور مسلسل کسی سے بات کر رہا تھا، دوسری جانب سے اسے کہا گیا کہ باس کی ہدایات تو کچھ اور ہیں، اسی دوران اس کی گاڑی کسی سے ٹکرائی تو میں نے اور اسٹیفنی نے گاڑی سے باہر جمپ لگا دی، ہم نے باہر نکلتے ہی مدد کے لیے چیخنا شروع کردیا، وہاں موجود لوگوں نے ٹریفک پولیس اہلکار کو بلوالیا۔

متاثرہ خاتون نے کہا کہ ٹریفک پولیس والوں نے ہمیں گاڑی میں بٹھا کر کہا کہ ائیرپورٹ چلتے ہیں مگر ایسا نہ ہوا، راستے میں انہوں نے گاڑی روکی اور کہا خراب ہوگئی ہے، ہم اس گاڑی سے بھی نکل کر بھاگ کھڑے ہوئے، اسی دوران ایک اور پولیس کی گاڑی آئی جس میں خاتون اہلکار بھی موجود تھی، اصلی پولیس کے آنے کے بعد ہم کو اپنا آپ محفوظ محسوس ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں