0

فٹبال ورلڈ کپ میں Lionel Messi نے نیا تاریخ ساز ریکارڈ قائم کر دیا، جبکہ Pakistan Cricket Board کے ڈائریکٹر Aaqib Javed نے فارمیٹ وائز الگ ٹیموں اور نئے سینٹرل کنٹریکٹ سسٹم کا عندیہ دے دیا۔

اوراب ایک نظرکھیلوں کی خبروں پر۔۔
سب سے پہلے بات کریں گے فٹ بال ورلڈ کپ کی ،،جہاں روز،نت نئے ریکارڈ بن رہےہیں ،،ارجنٹینا کے لیجنڈری فٹبالر لیونل میسی نے فیفا ورلڈ کپ میں تاریخ رقم کردی، وہ ایونٹ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے۔ ارجنٹینا کے اسٹار فٹبالر نے فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ اسٹیج کے دوران آسٹریا کے خلاف میچ کا پہلا گول کیا جو ان کا مجموعی طور پر 6 ایونٹس میں 17واں گول تھا۔ اس کے ساتھ ہی لیونل میسی فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ انہوں نے جرمنی کے میروسلاو کلوزے کے 16 گولز کا ریکارڈ توڑا ہے۔ اس فہرست میں برازیل کے رونالڈو 15 گولز کے ساتھ تیسرے جبکہ فرانس کے کلیان ایمباپے 14 گولز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں
اور۔۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ ہر فارمیٹ کی ٹیم الگ کرنے کی طرف پہلا قدم ہے، یہ ابھی پہلا قدم ہے، ہر فارمیٹ کی ٹیم الگ ہو سکتی ہے۔فوری طور پر ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کی ٹیمیں تو آپ کو الگ الگ کرنا ہی پڑیں گی، ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔انہوں نے کہا کہ فارمیٹ کی بنیاد پر سینٹرل کنٹریکٹ دینے سے قبل کچھ کھلاڑیوں کے ساتھ زیادتی ہو جاتی تھی، صرف ٹیسٹ کھیلنے والے کرکٹرز کا موازنہ ٹی ٹوئنٹی کھیلنے والے کرکٹرز سے کیا جاتا تھا، اب اگر کوئی صرف ٹیسٹ کھیلتا ہے تو اس کا مقابلہ ٹیسٹ کھیلنے والے سے ہو گا اور اس کی بنیاد پر معاوضہ ملے گا۔ عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ کے اچھے پرفارمرز کو پہلے درجے میں 40 لاکھ ماہانہ ملیں گے جبکہ کم پرفارمنس والوں کو 30 سے 35 لاکھ روپے ملیں گے، ٹیسٹ اور ون ڈے کی کیٹیگری اور پھر ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی والوں کو بھی پرفارمنس کی بنیاد پر درجہ بندی میں معاوضہ ملے گا۔ عاقب جاوید کا کہنا ہے کہ سب سے اہم ڈی کیٹیگری ہو گی، ان پر سب سے زیادہ توجہ ہو گی، ڈی کیٹیگری میں 16 سے 20 کھلاڑی ہوں گے، شروع سے ان کو فارمیٹ کے مطابق لے کر چلیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں