0

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا انتہائی اہم دوسرا دور منگل کو اسلام آباد میں ہوگا۔

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا انتہائی اہم دوسرا دور منگل کو اسلام آباد میں ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان ایک بار پھر عالمی سفارت کاری کا مرکز بن گیا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا انتہائی اہم دوسرا دور منگل کو اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے۔

اس تاریخی موقع کے لیے امریکی ایڈوانس ٹیم نور خان ایئربیس پہنچ چکی ہے جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا وفد آج شام وفاقی دارالحکومت پہنچے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی نمائندے اسلام آباد روانہ ہو چکے ہیں۔

انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا “میں ایران کے ساتھ معاہدے سے متعلق پُرامید ہوں۔ فریم ورک طے پا چکا ہے اور میرا خیال ہے کہ ہمارے پاس اسے مکمل کرنے کا یہ ایک بہترین موقع ہے۔”

وائٹ ہاؤس کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس کے ہمراہ خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہوں گے۔

مذاکرات کی میزبانی کے حوالے سے پاکستان نے تیاریاں مکمل کر لی ہیں، مذاکرات کے پیش نظر اسلام آباد کو ‘سیکیورٹی زون’ میں تبدیل کر دیا گیا ہے

20 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار تعینات ہیں، جبکہ پنجاب پولیس کی اضافی نفری بھی طلب کر لی گئی ہے جبکہ ریڈ زون اور توسیعی ریڈ زون میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ ممنوع ہے۔

انتظامیہ نے سرینا اور میریٹ ہوٹلز کو غیر ملکی وفود کے قیام کے لیے مکمل طور پر خالی کرالیا ہے۔

ہیوی اور پبلک ٹرانسپورٹ تاحکم ثانی معطل ہے، جبکہ میٹرو بس سروس پمز اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک بند کر دی گئی ہے۔

سفارت کاری کے اس بڑے امتحان میں پوری دنیا کی نظریں اب پاکستان پر لگی ہیں۔ ماہرین سوال کر رہے ہیں کہ کیا اس بار اسلام آباد میں موجودہ ڈیڈلاک ختم ہو جائے گا؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں