کراچی (12 مئی 2026): پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے اپنی بیٹیوں کو کب موبائل فون لے کر دیا یہ بات بتا کر سب کو حیران کر دیا۔
آج کے دور میں بچہ پالنے کے اندر کھلونوں سے کھیلنے کے بجائے موبائل فون سے کھیلتا ہے، اور والدین کو اپنے چھوٹے بچوں کو بھی موبائل فون سے دور رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے کراچی میں ہونے والی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے دینی اور دنیاوی تعلیم کی اہمیت پر گفتگو کی۔
ان کا کہنا تھا کہ والدین عموماً بہت کم عمری میں، یعنی ڈھائی سے تین سال کے بچوں کو اسکولوں کے حوالے کر دیتے ہیں جو ان کے مطابق ایک بڑی غلطی ہے۔
سابق آل راؤنڈر کپتان نے کہا کہ وہ خود بھی اس غلطی کا اعتراف کرتے ہیں۔ تاہم اب ان کا ماننا ہے کہ بچوں کی 5 سال کی عمر تک بنیادی تربیت گھر میں ہونا انتہائی ضروری ہے اور اس حوالے سے ماں باپ سے بہتر کوئی استاد نہیں ہو سکتا۔
شاہد آفریدی نے موجودہ دور میں والدین کی اہم غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں والدین بچوں کو خاموش کرانے کے لیے موبائل فون دے دیتے ہیں، جو غلط ہے۔ والدین کو اپنی اولاد کو اس عادت سے دور رکھنا چاہیے۔
سابق کپتان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے اپنی بیٹیوں کو پہلی بار موبائل فون ان کے نکاح کے بعد لا کر دیا۔
واضح رہے کہ شاہد آفریدی کی دو بڑی صاحبزادیوں کی شادی ہو چکی ہے اور ون ڈے ٹیم کے موجودہ کپتان شاہین شاہ آفریدی ان کے داماد ہیں۔
