آزاد جموں کشمیر میں کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
ترجمان انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس کے مطابق گرفتار افراد کے قبضے سے اسلحہ، مواصلاتی آلات اور مشتبہ دستاویزات برآمد ہوئی ہیں۔
ترجمان نے بتایاکہ کالعدم تنظیم کے بعض عناصر عوامی مسائل کے نام پر امن و امان خراب کر رہے ہیں، امن خراب کرنے کی کسی کوشش کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ترجمان کے مطابق قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، گرفتار ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے، عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے ضروری قانونی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب آزاد کشمیرمیں کالعدم تنظیم کی 9 جون کو ہڑتال کی کال پر معمولات زندگی متاثر ہیں، انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔ مظفر آباد، باغ اور میرپور میں امن امان کے پیش نظر فلیگ مارچ کیا گیا۔
ہڑتال کے باعث بازار بند ہونے کے خدشے کے پیش نظر بازاروں میں لوگوں کا رش ہے اور کئی علاقوں میں پیٹرول کی قلت پیدا ہو گئی ہے جہاں پیٹرول دستیاب ہے وہاں گاڑیوں کی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔
مہاجرین کی نشستوں کے خاتمہ کے کیلئے ایک ہفتے کا وقت مانگا جو ایکشن کمیٹی نے نہیں دیا: وزیراعظم اے جے کے
وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر میں حالات جس طرف جا رہے تھے، ایکشن کمیٹی پر پابندی لگنا ہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ 38 نکات میں سے کچھ مکمل اور کچھ جزوی حد تک مکمل ہوئے، اگر مذاکرات ہوتے تو باقی نکات پر بھی عمل درآمد یقینی ہو جاتا، مہاجرین کی نشستوں کے خاتمہ کے کیلئے ایک ہفتے کا وقت مانگا جو ایکشن کمیٹی نے نہیں دیا۔
ان کا کہناتھاکہ ریاست ماحول کو افراتفری کی طرف لے جانے کی متحمل نہیں ہو سکتی، عوام کے کیلئے انتخابی پلیٹ فارم کھلا ہے، آئیں الیکشن لڑیں، حقوق کی بات کرنا غلط نہیں لیکن حقوق کی بنیاد پر اپنی ریاست کھڑی کرنا ممکن نہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز آزاد کشمیر حکومت نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیا تھا، کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے۔
