0

قومی اقتصادی کونسل نے سالانہ ترقیاتی پروگرام اور اہم معاشی اہداف کی منظوری دیدی

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ہوا،کونسل نے اہم معاشی اہداف کی منظوری دے دی، کونسل نے آئندہ مالی سال کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی منظوری بھی دیدی۔

اجلاس میں سندھ، کے پی کے اور بلوچستان کے وزراء اعلیٰ نے شرکت کی، اجلاس میں پنجاب کی نمائندگی سینئر  وزیر مریم اورنگزیب نے کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ بجٹ کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ کئی ہفتوں سے مشاورت جاری ہے، صوبوں کےساتھ مزید و سائل پیدا کرنےکے حوالے سے مشاورت ہوئی، زیادہ سے زیادہ وسائل پیدا کرنا ہماری ترجیح ہے، دہشتگردی کے چیلنج سے نمٹنے کےلیے وسائل درکار ہیں، دفاع کےلیے وسائل کی فراہمی ہماری ترجیح ہے۔ْ

وزیراعظم نے کہا ملکی معیشت کو بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، ٹیم ورک کے طور پر پاکستان کے بہترین مفاد میں فیصلے کیے، خطے کی صورتحال کی وجہ سے تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، صوبوں نے اس حوالے سے بھرپور تعاون کیا، آج میکرو سطح پر ملکی معیشت مستحکم ہے۔

وزیراعظم نے روزگار کے مواقع، برآمدات، معاشی بہتری، پیداواری صلاحیت بڑھانا سب کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیا اور کہا کہ مشکلات کے باوجودکوشش کی کہ آئی ایم ایف پروگرام پر عمل پیرا رہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمتوں کی مد میں عوام کو 128 ارب روپے کا ریلیف فراہم کیا، دنیا کے کئی ممالک میں پیٹرول پمپوں پر لائنیں دیکھنے میں آئیں، بروقت اقدامات کی وجہ سے پاکستان میں عوام کوپیٹرول دستیاب رہا، ہم نے عوام کی توقعات پر پورا اترنےکی کوشش کی، یہ سب ٹیم ورک کے نتیجے میں ممکن ہوا۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نےکہا قومی اقتصادی کونسل نے پی ایس ڈی پی کی منطوری دے دی، آئندہ مالی سال کےلیے پی ایس ڈی پی کا حجم 1000 ارب روپے رکھا گیا ہے۔

رواں مالی سال بھی حکومت زیادہ تر معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی: ذرائع

ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کا قومی اقتصادی سروے کل دن 2 بجےکے بعد جاری کیا جائے گا، 2025-26 کے دوران حکومتی معاشی کارکردگی کا اسکور کارڈ جاری ہو گا۔

ذرائع نے بتایا کہ رواں مالی سال بھی حکومت زیادہ تر معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی، جی ڈی پی گروتھ4.2 فیصد ہدف کے مقابلے3.7 فیصد تک محدود رہنے کا تخمینہ ہے، آئی ایم ایف، عالمی بینک، اے ڈی بی کو بھی پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ کم رہنے کی توقع ہے۔

ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے دوران فی کس آمدن کا سالانہ ہدف پورا نہ ہوسکا، دستاویز کے مطابق رواں مالی سال فی کس آمدنی کا ہدف 5 لاکھ 60 ہزار 803 روپے تھا، رواں سال فی کس آمدن 5 لاکھ 33 ہزار 629 روپے تک محدود رہنے کا امکان ہے، ڈالر میں فی کس آمدن 150 ڈالر اضافے سے 1901 ڈالر ریکارڈ ہوئی۔

دستاویز کے مطابق اس سال بھی زراعت اور صنعتی شعبےکی ترقی کا ہدف پورا نہ ہوسکا، زرعی شعبےکی عبوری کارکردگی 4.5 فیصد ہدف کے مقابلے 2.89 فیصد رہی، صنعتی شعبے کی گروتھ 4.30 فیصد ہدف کے مقابلے 3.51 فیصد تک محدود ہے، خدمات کے شعبے کی ترقی 4 فیصد ہدف کے مقابلے 4.09 فیصد تک ہونے کا امکان ہے۔

اوسط مہنگائی 7.50 فیصد ہدف مقابلے 11 ماہ میں 7 فیصد اور مئی میں 11.66 فیصد رہی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں