0

ثالثوں نےامریکا ایران سوئس مذاکرات ناکامی سے کیسے بچائے؟

ایران اور امریکا کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ہوئے مذاکرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیان نے تقریباً ثبوتاژ کردیا تھا تاہم ثالث پاکستان اور  معاون  قطر کی مدد سے 18 گھنٹے تک جاری بات چیت کا عمل بالاخر کسی طرح مفید انداز سے انجام کو پہنچا۔

اس لمحے کہ جب برجنسٹاک میں مذاکرات جاری تھے، صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا بیان جاری کرکے تہران کو خبردار کیا تھا کہ ایران لبنان میں اپنی پراکسیز کو لبنان میں مشکلات پیدا کرنے سے فوری روکے، اگر اس نے ایسا نہ کیا تو ہم ایران پرسخت حملہ کریں گے جیسا کہ پچھلے ہفتے کیا تھا، اس بار اس سے بھی زیادہ سخت حملہ ہوگا۔

مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنےوالے ایک سفارتی ذریعے نے  جیو نیوز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے دھمکی آمیز بیان اچانک سامنے آنے پر ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف کا رویہ یکسر بدل گیا تھا۔

پاسداران انقلاب ایران کے سابق کمانڈر اور پارلیمنٹ کے موجود اسپیکر محمد باقر قالیباف جو امریکا کی نیت کو مسلسل ہدف تنقید بناتے رہے ہیں، انہیں صدر ٹرمپ کا بیان انتہائی ناگوار گزرا تھا اور بات چیت آگے بڑھنےکے امکانات کچھ دیر کیلئے مسدود ہوگئے تھے۔

برجنسٹاک مذاکرات کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مفاہمت کی یادداشت پر 18جون کو دستخط کے بعد فریقوں کی یہ پہلی بلمشافہ ملاقات تھی۔

تاہم ثالثوں پاکستان اورقطر کی سوئٹزرلینڈ میں مذاکراتی ٹیبل پر موجودگی کام کرگئی، اس سے پہلے 14 جون کو یعنی صدرٹرمپ کی سالگرہ کے روز مفاہمت کی یادداشت پردستخط کرنے سے بھی ایران نے انکار کردیا تھا مگرثالثوں ہی نے اس مسئلہ کا بھی حل نکال لیا تھا۔

برجنسٹاک مذاکرات کے موقع پر وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہبازشریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی، وزیراعظم پاکستان کے دفتر کا عملہ، جی ایچ کیو کی ٹیم  اور سیکریٹری خارجہ بھی موجود تھے۔

ماحول میں تلخی آئی تو وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایرانی وفد سے مسلسل رابطے میں رہے اورانہیں اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ مذاکرات کو جاری رکھا جائے، اسطرح امریکا ایران مذاکرات میں متوقع تعطل ہونے سے بروقت روک لیا گیاتاہم ایرانی وفد اس قدر ناراض تھا کہ مذاکرات کا فارمیٹ بدلنا پڑا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا ایران مذاکرات پاکستان اور قطر کی موجودگی میں ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 4 پارٹیوں کی میٹنگ میں صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان سے خلل آگیا تھا جس پرایران نے واضح کردیا تھا کہ اب مذاکرات اس فارمیٹ میں آگے نہیں بڑھ سکتے۔

بقائی نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان اور قطر کی جانب سے کردار ادا کرنے کے سبب مذاکراتی عمل تو جاری رہا تاہم ایران نے اسے نان فورپارٹی ارینجمنٹ میں بدل دیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے یہ بھی کہا کہ ایرانی آئل کی فروخت کے لائسنسوں کے اجرا، ایران کے منجمد اثاثوں تک رسائی اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کےمحفوظ انداز سے گزرنے سے متعلق میکانزم قائم کرنے کے معاملات پر کافی پیشرفت بھی ہوئی۔

اس سوال پر کہ آیا امریکا کی جانب سے ایران کو سہولتیں دینے کا عمل کیا ایرانی وفد کے سخت ردعمل کا نتیجہ تھا؟

مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے سفارتی ذرائع نے کہا کہ یہ ٹرانزکشنل ڈیل یعنی باہمی مفاد کا سودا ہے، ایک جانب پیشرفت سے دوسرے معاملے پر پیشرفت ہوتی ہے، ایران کو دی گئی رعایت مفاہمت کی یادداشت کے دورانیے میں پہلی جانچ ہے،  دیکھنا ہوگا کہ امریکی محکمہ خزانہ کا آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول آج شام کیا اقدامات کرتا ہے۔

ایران نے اسرائیل کی جانب سے لبنان میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی پر امریکا کے عملی اقدامات نہ ہونے پر سخت سوالات بھی اٹھائے جہاں 2 مارچ سے ابتک 4  ہزار لبنانیوں کی نسل کشی کی جاچکی ہے۔

ایرانی ردعمل کے نتیجے میں جنگ ختم ہونے اور لبنان میں لڑائی روکنے کی مانیٹرنگ سے متعلق ایک نیا میکانزم قائم کیا گیا ہےجس میں ثالث بھی شریک ہوں گے، اس میکانزم کامقصد تادیر امن کاقیام یقینی بنانا ہوگا۔

بقائی کے مطابق ایران کی مذاکراتی ٹیم کی ذمہ داریاں مکمل ہوگئی ہیں اور اب تکنیکی ٹیمز معاملات کو منگل سے آگے بڑھائیں گی۔

مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے سفارتی ذرائع نے کہا کہ مذاکرات کے اختتام پر ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کی جانب سے جاری بیان اس بات کاعکاس ہے کہ معاملات بالاخر خوش اسلوبی سے انجام کو پہنچے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں