نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران یورینیئم باہر بھیجنے کے بجائے اس کی افزودگی کی سطح کم کرےگا۔
اسحاق ڈار نے عرب میڈیا کو انٹرویو میں کہاکہ امریکا نے ابتدا میں مطالبہ کیا تھا کہ ایران افزودہ یورینیئم کے ذخائر باہر منتقل کرے لیکن ایران یورینیئم باہر بھیجنے کے بجائے اس کی افزودگی کی سطح کم کرےگا، نیوکلیئرفائل، منجمدا ثاثوں،لبنان پر 3 ٹیکنیکل ورکنگ گروپس کام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہاز 60 روز تک بغیر کسی ٹیرف کے گزر سکتےہیں، جہازوں کو صرف اسٹینڈرڈ نیوی گیشن یا سروس فیس دینا ہوگی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا ایران مذاکرات کی ذاتی طورپر رہنمائی کی۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ سعودیہ، قطر، مصر اور امارات ثالثی کے عمل کو سپورٹ کر رہےہیں، مذاکرات کا اگلا مرحلہ سخت ہوسکتا ہے مگر حتمی معاہدہ قابل حصول ہے، ڈیل میں کوئی منفی نکتہ نہیں۔
