ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کراچی میں ’ایکشن کمیٹی‘ بننے کا خدشہ ظاہر کردیا۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار نے کہا کہ حکومت کے سامنے چار مطالبات رکھے ہیں اگر ایک جماعت کے لیے آرٹیکل 140 اے کی آئینی ترمیم کڑوا گھونٹ ہے تو بھی اسے پی لیں ورنہ کراچی کو وفاق کا حصہ بنادیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایجنڈا واضح نہ کیا گیا تو کراچی میں بھی ایک ایکشن کمیٹی بن جائے گی۔
فاروق ستار نے اس سے قبل کہا تھا کہ کراچی سے متعلق وعدوں کی تکمیل کا وقت آگیا ہے، 2022 سے 2026 تک مسلسل وعدے ہوئے لیکن اب عمل درآمد ہونا چاہیے، ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان شراکت داری انتخاب سے پہلے طے ہوئی تھی۔
رہنما ایم کیو ایم نے کہا تھا کہ سندھ میں 18 سال سے بدترین حکمرانی اور وسائل پر قبضہ جاری ہے، کراچی کو سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے، شہر قائد اربن پیکج کے ساتھ آئینی اصلاحات بھی ناگزیر ہیں، آرٹیکل 140 اے پر مکمل عملدرآمد اور بااختیار بلدیاتی نظام چاہتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ایم کیو ایم کی آئینی ترمیم کو 28ویں آئینی ترمیم بنایا جائے، وزیر اعظم شہباز شریف آئندہ اجلاس میں 28ویں آئینی ترمیم کی ٹائم لائن دیں، پاکستان کے 144 شہروں کو خود مختاری اور وسائل دیے جائیں۔
