(24 جون 2026): پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات سے ناخوش اسرائیل نے واشنگٹن کو دھمکی دے دی۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے ثقافت اور کھیلوں کے وزیر مکی زوہر نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ اپنے معاہدے کے باعث جلد ہی اسرائیل کے ساتھ ٹکراؤ کی راہ پر کھڑا ہوگا۔
مکی زوہر نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے امریکا کے طرز عمل پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی معاملے پر اس وقت امریکا کا رویہ اچھا نہیں ہے، وہ اس بات کا ادراک نہیں کر پا رہے کہ ان کا پالا کس سے پڑا ہے۔
اسرائیلی وزیر نے مزید کہا کہ امریکا مستقبل قریب میں خود کو اسرائیل کے ساتھ ٹکراؤ کی راہ پر پائے گا، اور اس کو ہمارا جواب خودکار نہیں ہوگا، بلکہ ہمارے سکیورٹی مفادات ہی ہمارے فوجی اقدام کا تعین کریں گے۔
مکی زوہر نے جنگ کے خاتمے کیلیے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی مفاہمت کی یادداشت کی افادیت پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ میری نظر میں امریکی معاہدہ جوہری ہتھیاروں کا مسئلہ حل نہیں کرے گا، اور جنگ کا مرحلہ لوگوں کی سوچ سے کہیں زیادہ تیزی سے واپس آئے گا۔
واضح رہے کہ یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر اسرائیل کے اندر بڑھتی ہوئی تنقید کے دوران سامنے آئے ہیں۔
