0

ایران کے خلاف جنگ ایک بڑی غلطی تھی، صدر سلووینیا

لوبلیانا (29 جون 2026): سلووینیا کی صدر ناتاشا پیرتس موسار نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ ایک بڑی غلطی تھی، جس کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی اندازہ ہے۔

الجزیرہ انٹرویو کے مطابق سلووینیا کی صدر ناتاشا پیرتس موسار نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ ایک غلطی تھی اور ان کے خیال میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس بات کو سمجھتے ہیں۔

انھوں نے قطر کے ثالثی کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ قطر نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ روکنے اور معاہدہ طے پانے میں اہم کردار ادا کیا۔ پیرتس موسار نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین بین الاقوامی سطح پر کم زور نظر آتی ہے، جس کی وجہ اس کی خارجہ پالیسی میں اتحاد کی کمی ہے۔

دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ماسکو ایران کے معاملے پر امریکا کے ساتھ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا خواہش مند ہے، جب موجودہ بحران کا فعال مرحلہ ختم ہو جائے گا۔

وٹن نے کہا ’’جب ایران کے حوالے سے موجودہ فعال مرحلے کی تمام پیش رفت مکمل ہو جائے گی، تو ہم امریکی انتظامیہ کے نمائندوں کا خیر مقدم کریں گے، جن سے ہم پہلے بھی ماسکو میں متعدد بار ملاقات کر چکے ہیں۔‘‘

انھوں نے مزید کہا کہ روس مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے اور ان تمام تفصیلات اور طریقہ کار پر بات کرے گا جو پہلے گزشتہ موسمِ گرما میں الاسکا کے شہر اینکریج میں ہونے والی بات چیت میں زیرِ بحث آئے تھے۔

واضح رہے کہ امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے خبر دی ہے کہ امریکا اور ایران نے فوجی حملے روکنے اور اس ہفتے کے آخر میں نئے مذاکرات کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ دونوں فریق منگل کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ملاقات کی توقع رکھتے ہیں، جہاں آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع پر بات چیت ہوگی۔

اس سے قبل ایک ایرانی عہدیدار نے کہا تھا کہ ایران نے اتوار کو ہونے والے تکنیکی مذاکرات میں شرکت نہیں کی، جس کی وجہ حالیہ حملے اور امریکا کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت کی نامکمل شرائط تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں