ناظرین۔۔۔
خطہ ایک بار پھر آگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔ آسمان بارود سے بھرا ہوا ہے، زمین دھماکوں سے لرز رہی ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی نئی چنگاری ایک بڑے طوفان کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان ایک بار پھر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ امریکی طیارے ایران کے جنوبی علاقوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ ایران بھی بحرین اور کویت میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر تابڑ توڑ حملوں کے دعوے کر رہا ہے۔
ایرانی وزارتِ صحت کے ترجمان حسین کرمانپور کے مطابق صرف 8 اور 9 جولائی کے دوران امریکی حملوں میں 14 افراد شہید اور 78 زخمی ہو چکے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے دعووں کے باوجود امریکا نے دو دن کے اندر پانچ مختلف صوبوں پر بمباری کی۔ زخمیوں میں سے درجنوں افراد اب بھی اسپتالوں میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں جبکہ کئی خاندان اپنے پیاروں کی لاشوں کو سینے سے لگائے انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اسی دوران ایرانی سرکاری میڈیا نے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی رہائش گاہ کی تباہی کی پہلی ویڈیو جاری کر دی ہے۔ ملبے میں تبدیل ہو چکا کمپاؤنڈ، منہدم دیواریں، ٹوٹے ستون اور بکھرا ہوا سامان اس ہولناک حملے کی شدت بیان کر رہے ہیں۔ یہی وہ مقام تھا جہاں سے برسوں تک ایران کی سیاست اور خطے کے مستقبل کے اہم فیصلے کیے جاتے رہے۔
ایران میں آج بھی سوگ کی فضا قائم ہے۔ مشہد میں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے ساتھ ایک ہفتے پر محیط آخری رسومات اپنے اختتام کو پہنچ رہی ہیں۔ تہران، قم، نجف اور کربلا میں لاکھوں افراد نے ان کی یاد میں اجتماعات کیے، مگر ان رسومات کے ختم ہونے سے پہلے ہی جنگ کی آگ نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے۔
امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ کے نام پر ایران میں نئی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے۔ جواباً ایران نے بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ وہ پیش رفت ہے جس نے ایک بار پھر خطے میں بڑے تصادم کے خدشات کو زندہ کر دیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واشنگٹن کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اب تک یہ نہیں سیکھ سکا کہ دھونس، دھمکی اور وعدہ خلافی کی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حملہ کیا جائے گا تو جواب بھی دیا جائے گا اور آبنائے ہرمز کسی امریکی دباؤ سے نہیں بلکہ ایران کے فیصلوں کے تحت کھلی رہے گی۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے الزام عائد کیا ہے کہ بعض یورپی ممالک نے امریکا اور اسرائیل کو اپنی سرزمین اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دے کر خود کو اس جنگ کا حصہ بنا لیا ہے، اور وہ اس کے نتائج کی ذمہ داری سے بچ نہیں سکیں گے۔
تازہ امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق کیمپ عریفجان، علی السالم، جفیر اور شیخ عیسیٰ کے فوجی اڈے نشانے پر رہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے واضح پیغام دیا ہے کہ اگر امریکی حملے دوبارہ ہوئے تو پورے خطے میں موجود امریکی اڈے محفوظ نہیں رہیں گے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق بندر عباس، بوشہر، چابہار، کنارک اور اہواز سمیت متعدد علاقوں میں شدید حملے ہوئے ہیں۔ کئی فوجی اہلکار اور شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہیں۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ مشہد جانے والے دو پل بھی نشانہ بنائے گئے تاکہ شہید خامنہ ای کے جلوسِ جنازہ کو متاثر کیا جا سکے۔
دوسری طرف امریکا نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنی تازہ فضائی کارروائیاں مکمل کر لی ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا جن میں فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون ذخائر، ساحلی نگرانی کے مراکز اور فوجی لاجسٹک انفرااسٹرکچر شامل ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ جنگ یہاں رک جائے گی؟
کیا دونوں ممالک ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر آئیں گے؟
یا پھر یہ آگ پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی؟
ناظرین، تاریخ گواہ ہے کہ جب بڑی طاقتیں آمنے سامنے آتی ہیں تو صرف فوجی اڈے نہیں جلتے، معیشتیں تباہ ہوتی ہیں، شہر ویران ہوتے ہیں اور عام انسان سب سے بڑی قیمت ادا کرتا ہے۔
آج دنیا ایک بار پھر خوف کے سائے میں کھڑی ہے۔ تیل کی منڈیاں بے چین ہیں، عالمی طاقتیں پریشان ہیں اور کروڑوں لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ صرف ایک نئی جھڑپ ہے یا کسی بڑے اور تباہ کن عالمی بحران کا آغاز؟
ایک بات ضرور طے ہے۔۔۔ یہ جنگ اگر مزید پھیلی تو اس کی آگ سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔