اسلام آباد: آڈیٹر جنرل پاکستان کو مالی سال 25-2024 میں وفاقی وزارتوں، ڈویژنزاورصوبائی حکومتوں کو جاری 75 ارب روپے کے اخراجات کا حاب نا مل سکا۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف کامیابی پروگرام (SAP) کے تحت مالی سال 25-2024 میں 75 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی تھی۔
یہ فنڈز کابینہ ڈویژن کی جانب سے وفاقی وزارتوں، ڈویژنوں، اراکین پارلیمنٹ، صوبائی حکومتوں اور ان کے ماتحت اداروں کو جاری کیے گئے۔
پروگرام کا مقصد پسماندہ اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دینا، سماجی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا، انسانی وسائل کی ترقی اور ملک بھر میں متوازن علاقائی ترقی کو یقینی بنانا تھا۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کابینہ ڈویژن متعلقہ اداروں سے منصوبوں کی ماہانہ پیش رفت رپورٹس حاصل کرنے میں ناکام رہا، منصوبوں کی تکمیل کے سرٹیفکیٹس بھی فراہم نہیں کیے گئے ۔
آڈٹ حکام کے مطابق کابینہ ڈویژن یہ بھی نہ بتا سکا کہ75 ارب روپے کے فنڈز کن منصوبوں پر، کن علاقوں میں اور کتنے خرچ ہوئے اور کیا ان کا استعمال منظور شدہ منصوبوں پر ہی ہوا اور منصفانہ طور پر ؟
آڈیٹر جنرل نے اپنی سفارشات میں کابینہ ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ ایس اے پی فنڈز کی منصوبہ، شعبہ اور علاقہ وار نگرانی کے لیے مانیٹرنگ نظام قائم کیا جائے.
سفارشات میں کہا گیا کہ فنڈز کی تقسیم اور اخراجات کا ریکارڈ محفوظ رکھا جائے، منصوبوں پر پیش رفت، تکمیل اور تصدیق کا مؤثر نظام وضع کیا جائے۔
