ناظرین! ٹھیک دو ماہ پہلے والی وہ خوفناک صورتحال ایک بار پھر لوٹ آئی ہے جس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس پلیٹ فارم سے آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! ابھی دنیا کو سکھ اور امن کا سانس لینے کا موقع ملا ہی تھا کہ خطے میں ایک بار پھر کشیدگی اور بارود کی بو پھیل چکی ہے۔ دنیا ایک مرتبہ پھر شدید ہیجانی کیفیت اور پریشانی میں مبتلا ہے۔ لیکن یہاں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بنی بنائی بات کو بگاڑا کس نے؟ وعدہ خلافی کس نے کی؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی ٹی وی چینل این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک تہلکہ خیز دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق ہفتے کے روز امریکا اور ایران ایک بہترین معاہدے پر متفق ہو گئے تھے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنا جوہری پروگرام سمیت سب کچھ چھوڑنے پر ہامی بھر لی تھی۔ لیکن ناظرین، کہانی میں حیران کن موڑ تب آیا جب مذاکرات ختم ہونے کے محض ایک گھنٹے کے اندر ہی ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک امریکی بحری جہاز پر ڈرون داغ دیا! ٹرمپ غصے سے بھرے بیٹھے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس حملے کے بعد ہم نے رات کی تاریکی میں ایران پر شدید بمباری کی، کیونکہ ان کے بقول، یہ “بہت بیمار ذہنیت کے لوگ” ہیں۔
لیکن ویوورز! تصویر کا ایک دوسرا اور انتہائی بھیانک رُخ بھی ہے جس نے پینٹاگون کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ امریکی اخبار نے ایک ایسی سچائی سے پردہ اٹھایا ہے جسے چھپانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ یکم مارچ کو کویت کی شعیبہ بندرگاہ پر ایران کے ڈرون حملے میں 6 امریکی فوجی ہلاک اور کئی تشویشناک حالت میں ہیں۔ یہ امریکا کے لیے اس جنگ کا سب سے مہنگا اور دردناک حملہ ثابت ہوا ہے۔ بچ جانے والے اہلکاروں کا سنسنی خیز انکشاف ہے کہ امریکی کمانڈروں کو پہلے ہی وارننگ مل چکی تھی کہ یہ تنصیب غیر محفوظ ہے، لیکن جرنیلوں کی غفلت نے ان فوجیوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔
ناظرینِ گرامی! جنگ اب صرف بیانات تک محدود نہیں رہی۔ اس وقت کویت، بحرین اور اردن میں باقاعدہ آگ اور بارود کی بارش ہو رہی ہے۔ ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کویت میں علی السالم اور احمد الجابر جیسے بڑے امریکی اڈوں، اردن کے پرنس حسن ایئربیس، اور بحرین میں میزائل تنصیبات کو اپنے تباہ کن ڈرونز کا نشانہ بنایا ہے۔ کویت کا فضائی دفاعی نظام مسلسل ‘دشمن اہداف’ کو مار گرانے کی کوششوں میں لگا ہے، جبکہ اردن کی فوج نے بھی چار ایرانی میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایران کا پیغام دو ٹوک ہے: اگر امریکا نے ہمارے شہریوں یا تنصیبات پر حملہ کیا، تو ہماری مسلح افواج دفاع کے لیے پورے خطے میں امریکی اڈوں کو خاکستر کر دیں گی۔
اور ویوورز! ایک طرف مشرقِ وسطیٰ جنگ کے شعلوں میں جل رہا ہے، تو دوسری جانب واشنگٹن میں ایک پراسرار خاموشی چھا گئی ہے۔ صدر ٹرمپ کے انتہائی قریبی ساتھی، کٹر ریپبلکن اور ایران پر حملے کے سب سے بڑے حامی، سینیٹر لنزے گراہم اچانک اور پراسرار طور پر موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ موت سے چند گھنٹے قبل ان کی گراہم سے فون پر بات ہوئی تھی، وہ بس تھکے ہوئے تھے لیکن بالکل ٹھیک تھے۔ امریکی میڈیا کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق، 2003 سے مسلسل سینیٹر رہنے والے اس طاقتور ترین شخص کی موت دل کی بڑی شریان پھٹنے سے ہوئی ہے۔ وہ اسرائیل کے سب سے بڑے حامی اور ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے والوں میں پیش پیش تھے۔ عین اس وقت جب ایران جنگ عروج پر ہے، لنزے گراہم کا یوں اچانک دل کی بیماری سے مر جانا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
ویوورز! کیا ایران اور امریکا کی یہ جنگ اب پورے خطے کو نگل لے گی؟ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں۔ مزید تہلکہ خیز اور سچی خبروں کے لیے ‘پکی خبر’ کو سبسکرائب کرنا نہ بھولیں۔ اپنے میزبان راجہ واجد کو اجازت دیجئے، اللہ حافظ!
