ناظرین! جنگ کی آگ اب پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے والی ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس پلیٹ فارم پر آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! ایران اور امریکا کے درمیان تابڑ توڑ حملوں نے خطے کا نقشہ بدلنا شروع کر دیا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے دو ٹوک الفاظ میں وارننگ دی ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو جنگ نئے محاذوں تک پھیل جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران نے ابھی اپنی پوری عسکری طاقت استعمال ہی نہیں کی، اور اگر مجبور کیا گیا تو ہمارا جواب دشمن کی سوچ سے بھی زیادہ بھیانک ہوگا۔
اس سے بھی بڑی دھمکی ایرانی فوج کے ‘خاتم الانبیا ہیڈکوارٹر’ سے آئی ہے! ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے امریکا کو للکارتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے انفراسٹرکچر پر ایک بھی خراش آئی، تو خطے میں موجود امریکا اور اس کے اتحادیوں کا جو انفراسٹرکچر اب تک بچا ہوا ہے، اسے آہنی وار سے یوں کچلا جائے گا کہ اس کا نام و نشان تک مٹ جائے گا۔ ناظرین، آبنائے ہرمز ایران کے لیے ایک ‘ریڈ لائن’ ہے، اور تہران کا پیغام واضح ہے: ہمارا ردعمل برابری کا نہیں، بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ وسیع اور تباہ کن ہوگا۔
ویوورز! گزشتہ رات مشرقِ وسطیٰ میں بارود کی بارش ہوئی۔ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اردن کے الازرق ائیربیس پر امریکی فوج کے مواصلاتی نظام اور ریڈار کو ڈرونز سے اڑا دیا ہے۔ یہ حملہ بمپور بیرکس پر ہونے والے امریکی حملے کا سیدھا بدلہ تھا جس میں 7 ایرانی فوجی شہید ہوئے تھے۔ دوسری جانب، پاسدارانِ انقلاب نے کویت کے علی السالم ائیربیس پر ‘آپریشن نصر 2’ کی آٹھویں لہر کے تحت تباہ کن ڈرون اور میزائل داغے ہیں۔ کویت کے راستے حملوں پر ایران نے کویتی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکی فوج کو اپنے ملک سے نکال باہر کریں۔ اور ہاں، ناظرین! پاسدارانِ انقلاب نے اندیمشک کے آسمان پر اڑتے ہوئے امریکا کے انتہائی جدید ‘ایم کیو 9 ڈرون’ کو اپنے نئے فضائی دفاعی نظام سے مار گرانے کا بڑا دعویٰ بھی کر دیا ہے۔
ویوورز! اب آتے ہیں اس جنگ کے سب سے خطرناک موڑ کی طرف۔ امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی کے جواب میں ایران نے ایک ایسا اعلان کیا ہے جس نے عالمی منڈیوں میں بھونچال لا دیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ سے تمام توانائی برآمدات روک دی جائیں گی۔ ان کا نعرہ ہے: “تیل کی برآمدات یا تو سب کے لیے ہوں گی، یا پھر کسی کے لیے بھی نہیں!” جب تک امریکا ایرانی خود مختاری تسلیم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز سے تیل کا ایک قطرہ بھی گزرنے نہیں دیا جائے گا۔
ناظرین! ادھر یمن سے حوثی باغیوں نے بھی سعودی عرب کے ابہا ایئرپورٹ پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کر دی ہے۔ آبنائے باب المندب کو بند کرنے کی حوثی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو ایک نئے اور خوفناک بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ عبدالملک الحوثی کی قیادت میں زیدی شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ان حوثیوں کی عسکری طاقت نے، جنہیں جدید بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے لیس سمجھا جاتا ہے، خطے کی بڑی بڑی طاقتوں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
اور آخر میں ویوورز! اس سلگتی ہوئی آگ کے بیچ امریکا نے سعودی عرب اور کویت کے لیے اربوں ڈالرز کے دفاعی پیکج کی منظوری دے دی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق سعودی عرب کو تقریباً 2 ارب ڈالرز کے جدید ترین گائیڈڈ میزائل سسٹمز دیے جا رہے ہیں (جس میں 20 ہزار گائیڈڈ راکٹ ٹیکنالوجی شامل ہے)، جبکہ کویت کو بھی کروڑوں ڈالرز کا دفاعی سامان ملے گا۔ ان جدید ترین ہتھیاروں کا مقصد خطے میں ان ممالک کی دفاعی فصیل کو مضبوط کرنا ہے۔
کیا مشرقِ وسطیٰ اب باقاعدہ ایک بڑی عالمی جنگ کا میدان بننے والا ہے؟ خطے کی ہر بڑی، سچی اور ‘پکی خبر’ سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کرنا مت بھولیں۔ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیں۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اللہ حافظ!
