پاکستان میں تیل کی کمی کابحران سر اٹھانے لگا،تیل کمپنیوں نے پیٹرول کی ممکنہ قلت سے خبردار کرتے ہوئے حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کردیا۔
تیل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ملک میں صرف 15 روز کی ضرورت کے برابر پیٹرول ذخائر باقی رہ گئے ہیں۔
اگر فوری مداخلت نہ کی گئی تو پیٹرول (موٹر اسپرٹ/ایم ایس) کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔
15جولائی کو وزیر توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) علی پرویز ملک کے نام ’انتہائی فوری‘ درجے کے خط میں آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل نے خطرےسے آگاہ کیا
ایڈوائزری کونسل نے کہا کہ اس وقت صرف تقریباً 370 ہزار میٹرک ٹن موٹر اسپرٹ (ایم ایس) کا ذخیرہ موجود ہے، جو ملک کی تقریباً 15دن کی ضرورت کے برابر ہے۔
کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ویبوک میں تاخیر سے درآمدی پیٹرول کی کلیئرنس متاثر ہورہی ہے،
تین درآمدی پیٹرول کارگو بروقت نہ پہنچے تو سپلائی کو دھچکا لگ سکتا ہے، 66.7 ارب کی عدم ادائیگی سے آئل کمپنیوں کو مالی بحران کا سامنا ہے۔
دوسری جانب ایران امریکا جنگ تیز،عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کوبھی پر لگ گئے،،
برینٹ خام تیل کی قیمت 0.4 فی صد اضافے کے ساتھ 85.28 ڈالر فی بیرل ہو گئی،
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 0.5 فی صد بڑھ کر 80.02 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
