ناظرین! پاکستان کے سیاسی اور آئینی منظرنامے پر ایک ایسا زبردست بھونچال آنے والا ہے جس کی بازگشت نے اقتدار کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ میں ہوں آپ کا میزبان راجہ واجد، اور ‘پکی خبر’ کے اس خصوصی اور تہلکہ خیز ویلاگ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں۔
ویوورز! پچھلے کچھ عرصے سے 28ویں آئینی ترمیم اور نئے صوبوں کا خوب چرچا ہے۔ ہر طرف نئے صوبے بنانے، انتظامی ڈھانچہ تبدیل کرنے اور موجودہ پارلیمانی نظام کو لپیٹنے کی باتیں سنائی دے رہی ہیں۔ سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں ایک نیا مجوزہ آئینی مسودہ تیزی سے گردش کر رہا ہے جس نے بڑی سیاسی جماعتوں کے طوطے اڑا دیے ہیں۔ آخر اس 28ویں آئینی ترمیم میں ایسا کیا ہے جو صوبے ہچکچا رہے ہیں اور سیاستدان اس سے خوفزدہ ہیں؟
ناظرینِ گرامی! اس گردش کرنے والے مسودے کے مطابق، پاکستان کے موجودہ وفاقی نظام کو مکمل طور پر بدلنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سب سے بڑا اور تہلکہ خیز نقطہ یہ ہے کہ ملک کو 4 کے بجائے 20 نئی انتظامی اکائیوں یا صوبوں میں تقسیم کرنے کی بات کی گئی ہے۔ پنجاب کو 5 حصوں یعنی شمالی، سینٹرل، جنوبی پنجاب، پوٹھوہار اور بہاولپور میں بانٹنے کا خاکہ ہے۔ سندھ کو کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور میرپورخاص میں، خیبرپختونخوا کو پشاور، ہزارہ، ملاکنڈ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں، جبکہ بلوچستان کو کوئٹہ، مکران، ژوب اور قلات میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ویوورز! بات صرف نئے صوبوں تک محدود نہیں ہے۔ اس مسودے کا سب سے خطرناک حصہ موجودہ مقننہ کا خاتمہ ہے۔ تجویز یہ ہے کہ قومی اسمبلی کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے اور سینیٹ کو واحد وفاقی قانون ساز ایوان بنا دیا جائے۔ صدرِ مملکت کا انتخاب براہ راست عوام کے ووٹوں سے ہوگا اور وہ وفاقی حکومت کا طاقتور ترین سربراہ ہوگا۔ تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اسی صدر کی وفاقی کابینہ کے رکن ہوں گے۔ اور تو اور ناظرین، ہر صوبے کا گورنر اتنا طاقتور ہوگا کہ وہ آئین کی خلاف ورزی پر وزیراعلیٰ کو معزول کرنے کی سفارش کر سکے گا جس کا حتمی فیصلہ مجوزہ وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔
ناظرین! اس مجوزہ نظام میں بیوروکریسی کے پر کترنے کا بھی پورا انتظام کیا گیا ہے۔ ہر ضلع میں براہِ راست عوام کے ووٹوں سے ‘ضلع ناظم’ منتخب ہوگا، اور طاقتور ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اسی ناظم کے ماتحت کام کریں گے تاکہ اختیارات براہ راست نچلی سطح تک منتقل ہو سکیں۔
ویوورز! اب یہاں دو سب سے بڑے اور اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ پہلا یہ کہ کیا یہ سب واقعی سچ ہے اور اس پر کام کب سے ہو رہا تھا؟ ناظرین، ‘پکی خبر’ کے پلیٹ فارم سے ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ فی الحال یہ کوئی سرکاری یا حکومتی ڈرافٹ نہیں ہے جو پارلیمنٹ میں پیش ہونے جا رہا ہو۔ بلکہ یہ ایک نظریاتی خاکہ ہے جو صدارتی نظام اور نئے صوبوں کے حامی تھنک ٹینکس کی پیداوار ہے۔ البتہ، مقتدر حلقوں میں نظام کی تبدیلی اور گورننس کو بہتر بنانے کے لیے ایسے ماڈلز پر طویل عرصے سے خاموش بحث ضرور جاری ہے۔ حالیہ آئینی ترامیم کے شور میں اس مسودے کو جان بوجھ کر چھوڑا گیا ہے تاکہ عوام اور سیاستدانوں کا ردعمل چیک کیا جا سکے۔
دوسرا اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ نیا سسٹم ملک و قوم کے لیے بہتری اور خوشحالی لائے گا؟ ویوورز، اگر اس کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو چھوٹے صوبے اور بااختیار بلدیاتی نظام گورننس کے لیے ایک بہترین نسخہ ہے۔ اختیارات جب لاہور اور کراچی سے نکل کر براہ راست گلی محلے اور مقامی نمائندوں تک پہنچیں گے، تو عوام کی محرومیاں دور ہوں گی۔ ترقیاتی فنڈز سیدھے ناظمین کو ملیں گے جس سے متوازن ترقی ممکن ہو سکے گی۔
لیکن ناظرین! اس تصویر کا دوسرا رخ انتہائی بھیانک اور چیلنجنگ ہے۔ پاکستان کی موجودہ ڈوبتی ہوئی معیشت کیا 20 نئے صوبوں کا بوجھ اٹھا سکتی ہے؟ اتنے سارے نئے سیکرٹریٹ، نئی اسمبلیاں، ہائی کورٹس اور ہزاروں سرکاری افسران کی فوج کے لیے اربوں روپے کہاں سے آئیں گے؟ اس کے علاوہ ویوورز، 1973 کا آئین ایک پارلیمانی آئین ہے۔ قومی اسمبلی کو ختم کر کے صدارتی نظام لانے کی کوشش کا مطلب پورے آئینی ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے، جسے نہ تو بڑی سیاسی جماعتیں تسلیم کریں گی اور نہ ہی یہ عمل پرامن ہوگا۔ صوبوں کی نئی حد بندیاں لسانی اور سیاسی فسادات کو جنم دے سکتی ہیں۔
کیا پاکستان اس وقت اتنے بڑے تجربے کا متحمل ہو سکتا ہے؟ یا مقتدرہ واقعی موجودہ نظام سے مایوس ہو کر یہ کڑوا گھونٹ پینے کی تیاری کر رہی ہے؟ اپنی قیمتی رائے کمنٹ سیکشن میں ضرور دیجیے گا۔ ملک کے اندرونی حالات اور ہر ‘پکی خبر’ سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے چینل کو سبسکرائب کرنا مت بھولیں۔ اپنے میزبان راجہ واجد کو اجازت دیجئے، اللہ حافظ!
پاکستان میں 20 نئے صوبوں کی تجویز، ملک میں بڑی انتظامی تبدیلی کا امکان
پاکستان نے شاندار کارکردگی کے ساتھ ورلڈ یوتھ اسکریبل ٹائٹل ساتویں بار جیت لیا
ایران کا بیان: سعودی، ترک اور پاکستانی دفاعی معاہدہ ہمارے خلاف نہیں
جنرل محسن رضائی کی اعلیٰ سلامتی کونسل میں شمولیت، قالیباف کی مبارکباد
ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای جلد منظرِ عام پر آئیں گے
تین طاقتیں ایک پلیٹ فارم پر، مشترکہ دفاعی پیکٹ
پی سی بی نے کھلاڑیوں کو غیر ملکی لیگز کی اجازت دے دی
کشمیر پاکستان کا لازمی حصہ، تعلق ناقابلِ کمزوری
ایران کا بڑا دعویٰ: تباہ شدہ امریکی و اسرائیلی طیاروں کی باقیات نمائش کے لیے پیش، ایف-15 کی تصاویر جاری
امریکی جنرل کی وارننگ: ایران کو شکست آسان نہیں