امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مسلسل رابطے کر رہا ہے اور ممکن ہے کہ یہ جنگ رواں سال نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے۔ اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ کوئی ایسا معاہدہ نہیں کریں گے جو امریکا کے مفاد میں نہ ہو، البتہ جنگ ختم ہوتے ہی پٹرول کی قیمتوں میں تیزی سے کمی آئے گی۔ ایک اور سوال پر ٹرمپ نے اردن میں امریکی اڈے پر حملے سے متعلق اس رپورٹ کو مسترد کر دیا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ حملے سے قبل ایران نے چین سے سیٹلائٹ تصاویر حاصل کی تھیں۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ آئندہ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات پر مثبت انداز میں بات ہوگی۔
دوسری جانب، یمن کی حوثی اکثریتی تنظیم انصار اللہ نے بحیرہ احمر کے انتہائی اہم اسٹریٹجک جزیرے ‘میون’ پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد باب المندب پر ان کی گرفت مزید مضبوط ہو گئی ہے۔ حوثیوں نے سعودی حمایتی فورسز کے زیرِ استعمال ایک امریکی ساختہ بکتر بند ٹینک پر بھی قبضے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایران سعودی عرب کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں ہے، اور تمام ممالک کو مل کر خطے میں امن قائم کرنا چاہیے۔ ایرانی صدر نے بتایا کہ مسقط میں ہونے والے اجلاس میں وہ تمام ممالک شریک ہوں گے جن کی سرزمین سے ایران پر حملے کیے گئے۔
آبنائے ہرمز کے تنازع پر پیش رفت کرتے ہوئے ایران نے امریکا کے سامنے 7 شرائط رکھ دی ہیں اور واضح کیا ہے کہ جب تک یہ شرائط پوری نہیں ہوتیں آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔ تہران میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ عمان کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت نیا ٹرانزٹ روٹ مکمل طور پر ایرانی پانیوں سے گزرے گا اور جنوبی روٹ کو بند کر دیا جائے گا,,کشیدگی کےباعث برینٹ خام تیل کی قیمت 2.77 فیصد اضافے کے بعد 107.51 ڈالر اور امریکی خام تیل کی قیمت 102.32 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
