بوسنیا کا قصاب کہلانے والا جنگی مجرم اور سربرینیتسا قتلِ عام کا ماسٹر مائنڈ راتکو ملادچ چل بسا
سربیا کے سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق ملادچ دی ہیگ کی جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہا تھا
راتکو ملادچ طویل عرصے سے شدید علالت اور متعدد فالج کے حملوں کا شکار تھا
1995ء میں ملادچ کی کمان میں سرب فورسز نے آٹھ ہزار بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کو شہید کیا تھا
سربرینیتسا کا یہ ہولناک واقعہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ میں خونریزی کا بدترین سانحہ سمجھا جاتا ہے
قتل عام کے بعد شواہد چھپانے کے لیے لاشیں اجتماعی قبروں سے نکال کر مختلف مقامات پر منتقل کی گئیں
نوے کی دہائی کی بوسنیا جنگ میں ایک لاکھ افراد ہلاک اور بائیس لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے
طویل رو پوشی کے بعد ملادچ کو مئی 2011ء میں گرفتار کر کے دی ہیگ کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا
بین الاقوامی ٹریبونل نے 2017ء میں اسے نسل کشی اور جنگی جرائم پر عمر قید کی سزا سنائی تھی
2021ء میں اپیل کورٹ نے بھی جنگی جرائم کے مجرم راتکو ملادچ کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی تھی
