ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد جاری کر دی۔
ایرانی بحریہ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے میں مجموعی طور پر 26 بحری جہاز آبنائےہرمز سے گزرے، بحری جہازوں میں بڑے آئل ٹینکرز اور کنٹینر بردار جہاز بھی شامل تھے۔
بحریہ کا کہنا ہے کہ گزرنے والے تمام تجارتی و مال بردار جہاز ایرانی فورسز کے ساتھ رابطے میں تھے۔
دوسری جانب برطانوی وزیرخارجہ یوویٹ کوپر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائےہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو یرغمال بنا لیا ہے۔
اپنے بیان میں برطانوی وزیرخارجہ نے کہا کہ آبنائےہرمز کی بندش کا سب سے زیادہ نقصان غریب ملکوں کو ہو رہا ہے اور 800جہازوں کے بیس ہزار عملے کے ارکان آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے ہیں۔
یوویٹ کوپر نے کہا کہ آبنائےہرمز کی بندش سے پوری دنیا میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں جب کہ رواں سال ساڑھے چار کروڑ افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے بین الاقوامی بحری راستہ ہائی جیک کرنے سے کروڑوں لوگوں کو بھوکا نہیں رکھا جا سکتا۔
