0

ایران نے پابندیاں ختم ہونے اور آبنائے ہرمز پر اپنے مؤقف کو مزید سخت کر دیا، جبکہ بغداد میں امریکی سفارتخانے پر مبینہ ڈرون حملے نے خطے میں نئی کشیدگی کے خدشات بڑھا دیے۔

ایران کے اسپیکر پارلیمنٹ باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تیل، مرکزی بینک اور تیل کی فروخت سے متعلق تمام پابندیاں اٹھا لی گئی ہیں، پابندیوں کے خاتمے کے بعد تیل کی فروخت کی رقم براہِ راست بینک میں وصول کر رہے ہیں۔باقر قالیباف نے ایک انٹرویو میں کہا کہ آبنائے ہرمز سے ٹول فری گزرنے کی سہولت صرف 60 دن کے لیے ہوگی، تہران آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے حقوق سے کسی صورت دست بردار نہیں ہوگا، آبنائے پر خودمختاری ایران اور عمان کے پاس ہے، گزرگاہ ایران کے قوانین کے تحت چلے گی۔انھوں نے کہا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت امریکا اور اسرائیل کی شکست کی دستاویز ہے، صہیونی حکومت مفاہمتی یادداشت کی شدید مخالف ہے، مفاہمتی یادداشت کے بعد اسرائیل نے لبنان پر شدید حملے کیے، جس کے باعث سوئٹزرلینڈ جانا پڑا۔اسپیکر پارلیمنٹ نے کہا ہماری اہم ترجیح لبنانی جنگ بندی تھی، سوئٹزرلینڈ اجلاس کے بعد لبنان پر حملوں میں کمی آئی ہے، لبنان کی قومی خودمختاری کے لیے ایران، امریکا اور لبنان کی مشترکہ کمیٹی قائم ہوگی۔باقر قالیباف نے چین کے حوالے سے کہا کہ بیجنگ پابندیوں کے دوران ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار تھا۔ خیال رہے کہ 2025 میں ایران کی 80 فی صد سے زائد تیل برآمدات چین کو گئیں۔ یہ خریداری زیادہ تر چینی نجی ریفائنریوں کے ذریعے رعایتی قیمتوں پر ہوتی تھی۔
دوسری جانب ایران میں شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں حکومت نے 6 جولائی کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا۔ایرانی حکومت کے ترجمان کے مطابق 8 جولائی کو ملک بھر میں یومِ سوگ بھی منایا جائے گا۔
اور۔۔روسی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔روسی میڈیا کے مطابق بغداد میں واقع امریکی سفارتخانے کو ڈرون سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں۔روسی میڈیا کا کہنا ہے کہ واضح نہیں کہ ڈرون حملے سے عمارت کو نقصان پہنچا ہے یا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں